خطبات محمود (جلد 11) — Page 255
خطبات محمود ۲۵۵ ۳۳ سال 1927ء توحید الہی (فرموده ۱۹ دسمبر۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج چونکہ میری طبیعت خراب ہے اس لئے زیادہ لمبا خطبہ نہیں بیان کر سکتا۔لیکن توحید الہی کے متعلق ایک نکتہ جو ابھی ابھی میرے دل میں ڈالا گیا ہے بیان کرتا ہوں۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے دنیا نے شرک کی دلیل قرار دیا۔لیکن اسی چیز کو اللہ تعالی نے شرک کے خلاف توحید کی دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے۔وہ چیز کیا ہے۔وہ عالم موجودات ہے۔دنیا میں اس قدر ا اشیاء موجود ہیں کہ جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ان میں بعض طاقتیں قوتیں اور خاصیتیں موجود ہیں۔اسی طرح بعض کمزوریاں بھی ہیں۔اور دنیا میں ہر چیز دوسری کی مدد کی محتاج ہے۔اور تحمیل کے لئے اس کو ہر وقت دوسری کی مدد کی ضرورت ہے۔انسان بھوک میں پیاس میں آرام کے لئے مادیات کی طرف جھکتا ہے۔کبھی اس کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے کبھی لباس کی۔پھر ہر سیکنڈ وہ سانس لے رہا ہے۔کبھی باہر نکالتا ہے کبھی اندر کھینچتا ہے۔ہر لمحہ دنیا کے نظارے اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔کوئی چیز اس کو اچھی لگتی ہے اور کوئی بری معلوم دیتی ہے یہاں تک کہ خدا کی یاد کے وقت بھی اس کے کان دنیا کی آوازیں سنتے ہیں۔اس کا معدہ ہضم کرنے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔ناک سانس لینے میں مشغول ہوتی ہے۔غرض کہ کوئی ایسالحہ اور وقت نہیں جب وہ دنیا سے علیحدہ ہو سکے۔ان حالات کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ خدا کے لئے کون ساخانہ خالی ہے۔دنیا میں ہر وقت سوتے جاگتے انسان کے حواس خمسہ دنیا کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی ان تاثرات سے جدا نہیں ہو سکتے۔بعض لوگوں نے انہی حالات سے متاثر ہو کر کہہ دیا کہ سب چیزیں خدا کے وجود ہیں اور یہ جملہ اشیاء قابل پرستش ہیں۔انہوں نے چاند۔