خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 250

خطبات محمود ۲۵۰ ۳۲ سال 1927ء حضرت تائی صاحبہ کا انتقال فرموده ۲ دسمبر۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: بعض واقعات بظاہر بہت چھوٹے اور معمولی ہوتے ہیں لیکن اگر حقیقت پر غور کیا جائے تو سمجھدار انسان کے لئے ان کے اندر بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔وہ واقعہ کے لحاظ سے تو معمولی ہوتے ہیں مگر صداقت کے ثبوت کے لحاظ سے وہ نشان بن جاتے ہیں۔بسا اوقات ایک فتنہ کھڑا ہوتا ہے مگر وہی ایک بہت بڑا نیک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔مارٹن کلارک کا مقدمہ جب چلا تو ایک غیر احمدی مولوی جو حضرت مسیح موعود کا سخت دشمن تھا بطور گواہ پیش ہوا حضرت صاحب کی طرف سے ایک غیر احمدی وکیل تھے جو اب تک بھی جماعت میں شامل نہیں ہیں۔بلکہ مذہبی لحاظ سے کچھ تعصب رکھتے ہیں۔انہوں نے چاہا کہ اس دشمن سلسلہ مولوی صاحب پر ایک سوال کریں جس سے اس کی اخلاقی گراوٹ اور خاندانی پستی کا اظہار ہو۔مگر جب حضرت مسیح موعود کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ایسا کرنے سے روک دیا۔اور کہا اس سوال کو مقدمہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اگر مقدمہ سے اس کا تعلق ہو تا یا کسی اور پہلو سے ممد ہو تا تو اور بات تھی مگر خواہ مخواہ کسی کو شرمندہ کرنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ وکیل صاحب نے اصرار بھی کیا کہ بعض اوقات دشمن کی حیثیت گرا دینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔مگر آپ نے اس کو پسند نہ فرمایا اور ایسا سوال کرنے سے روک دیا۔وہ وکیل صاحب ابھی تک غیر احمد ی ہیں۔مگر مسیح موعود کی ذات کے متعلق بہت اعلیٰ خیالات رکھتے ہیں اور ☆ اصل نام حرمت بی بی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا مرزا غلام محی الدین مرحوم کی پلوٹھی بیٹی اور حضور کے برادر اکبر مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی اہلیہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چچازاد بہن اور بھاوج تھیں۔۳۰ نومبر اور یکم دسمبر۱۹۲۷ء کی درمیانی شب سو سال سے زائد عمر میں طبعی موت سے فوت ہو ئیں۔(مرتب)