خطبات محمود (جلد 11) — Page 242
خطبات محمود ۲۴۲ سال 1927ء ہے۔خدا تعالیٰ ایسار فوکر دیتا ہے کہ کوئی پہچان ہی نہ سکے۔چونکہ عام طور پر لوگ اتنی کوشش اور اتنی جدوجہد نہیں کرتے اس لئے ان کے زخم نہیں ملتے۔تھوڑے لوگ کرتے ہیں اس لئے تھوڑوں کے ملتے ہیں۔مگر خدا تعالی کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔انسان کے لئے ضروری ہے کہ غضب اور محبت کے جذبات کو قبضہ میں رکھے۔رسول کریم اللہ نے فرمایا ہے۔کسی سے اتنی محبت نہ کر کہ اگر تفرقہ ہو تو شرمندہ ہونا پڑے اور کسی سے اتنا بغض نہ کر کہ صلح ہو تب شرمندہ ہونا پڑے۔پس خواہ محبت کے تعلقات ہوں یا بغض کے ان میں خطرہ ہوتا ہے۔کیونکہ بعض اوقات انسان اپنے آپ کو ایسے مقام پر پاتا ہے جہاں سے لوٹنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے۔بخاری کتاب المغازی حدیث الافک الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۲۷ء) تاریخ الخلفاء لیلی شهادت حضرت عمر صفحه ۱۳۳ ۱۳۴۰ مطبوعہ نورمحمد کارخانه تجارت آرام با غ کراچی