خطبات محمود (جلد 11) — Page 239
۲۳۹ سال 1927ء سے ایسے لوگ تھے جو رسول کریم ﷺ کی صداقت کی تصدیق کرتے تھے۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مباہلہ کیا گیا اور کہا گیا اگر یہ سچا رسول ہے تو ہم پر پتھر بر سا۔اگر یہ رسول سچا ہے تو ہم پر وبال آئے۔یہ دونوں حالتیں بتاتی ہیں کہ ایسے لوگ تھے جن میں یہ دونوں کیفیتیں پائی جاتی تھیں۔اس صورت میں ابو جہل کی حالت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ روایت سے دونوں باتیں ابو جہل پر چسپاں ہوتی ہیں۔پھر کیا عجیب بات ہے کہ ابو جہل اپنی خاص مجلس میں تو رسول کریم کی صداقت کا اقرار کرتا ہے مگر لڑائی اور جنگ کے میدان میں خدا کے سامنے کہتا ہے اگر یہ رسول سچا ہے تو مجھ پر وبال نازل ہو۔ایک شخص میں ان دونوں کیفیتوں کے جمع ہونے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کی غضب کی حالت بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ وہ نہیں دیکھتا تھا کہ اس کا کیا انجام ہو گا۔اور وہ خدا کے سامنے کھڑا ہو گیا۔حالانکہ اسے رسول کریم کے متعلق وہ عرفان حاصل تھا جو ایک کافر کو ہو سکتا ہے۔پھر قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان محبت میں بھی ایسا ہی کرتا ہے۔وہ دوسرے کی محبت میں ایسا پھل جاتا ہے کہ تحت الثریٰ میں جاگرتا ہے۔اس مرض میں کمزور ایمان والے یا منافق اور دشمن ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ بعض اخلاص رکھنے والوں کو بھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی سلول اور بعض دوسرے منافقوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگایا جس کی خدا تعالیٰ نے بریت کی۔مگر وہ بعد میں ہوئی۔درمیان میں ایسا وقت آیا جب اعتراض پھیلنے لگے۔آخر رسول کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں منافقوں کی ایذاء رسانی کا ذکر تھا۔اس وقت کچھ لوگ کھڑے ہو گئے۔جو عبد اللہ بن ابی کی قوم کے نہ تھے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ایسا شخص ہماری قوم سے ہے تو آپ ہمیں بتا ئیں تاکہ ہم اسے سزا دیں اور اگر کسی دوسری قوم سے ہے تو بھی بتا ئیں اسے بھی ہم سزا دیں گے۔اس وقت مجلس میں منافق نہیں بلکہ مومن بیٹھے تھے۔مگر ان میں عبد اللہ بن ابی بن سلوں کی قوم کے لوگ تھے۔جن کو اس سے محبت تھی۔اس وقت انہیں یہ خیال نہ آیا کہ رسول کریم کی تکلیف کا سوال ہے اور حضرت عائشہ کی عزت کا سوال ہے۔اس وقت انھیں یہی بات یاد رہ گئی کہ ہمارے سردار کے خلاف کیوں کچھ کہا گیا ہے۔اس وجہ سے تلواریں کھینچ کر کھڑے ہو گئے۔اور کہنے لگے۔کون ہے جو ہماری قوم کے آدمی کو سزا دے اس پر نقشہ ہی بالکل بدل گیا آخر رسول کریم ﷺ نے ان کو ٹھنڈا کیا اس سے معلوم ہوتا ہے۔چونکہ اس وقت عبد اللہ بن ابی بن سلول کا ذکر تھا۔اور وہ لوگ اس سے تعلق رکھتے تھے۔اس لئے اس کی محبت کا