خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 238

خطبات محمود ٢٣٨ سال 1927ء ہے اسے صدمہ پہنچا جو بڑھتے بڑھتے اس عورت تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اوروں تک بھی پہنچا۔اور وہ ایک لمبے عرصہ تک بڑی ہوشیاری سے قتل کرتا رہا۔تو غضب ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ انسان یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کا نقصان مجھے کیا پہنچے گا اور دوسروں کو کیا۔ابو جہل کے متعلق آتا ہے اس کی مجلس میں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ ذکر آتا کہ ان کی باتیں ایسی ہیں جو سوچنے کے قابل ہیں۔اس قسم کی گفتگو پر اس نے جھنجھلا کر کہا بات تو ٹھیک ہے مگر یہ تو بتاؤ میرے باپ دادا نے کب اس کے باپ دادوں کی غلامی کی کہ آج ہم کرنے لگ جائیں۔رسول کریم کا دعوئی بڑا شاعر ہونے کا یا بڑا عالم ہونے کا نہ تھا کہ آپ کے فن کا انکار معمولی بات ہوتی۔خدا کی طرف سے آنے کا آپ کو دعوئی تھا۔اس کا انکار معمولی بات نہ تھی مگر باوجود اس کے کہ اس انکار میں اسے جہنم نظر آتا تھا۔اور آپ کا انکار خدا کا انکار تھا مگر اس نے کر دیا۔وجہ یہ کہ اسے رسول کریم اس سے کینہ اور بغض تھا۔وہ کہتا تھا محمد ( ا ) کیوں بڑھ گیا۔اس کی خلوت کی گھڑیوں میں اور اس کے علیحدہ بیٹھے ہونے پر جب رسول کریم ان کا ذکر آتا تو اس کا دل محسوس کرتا تھا کہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں میں حق بجانب نہیں ہوں۔مگر پھر اس پر کینہ اور دشمنی غالب آجاتی اور وہ مخالفت کرنے لگ جاتا تھا اور جھوٹا قرار دیتا۔جہاں اس کا دل کسی کسی وقت کہہ اٹھتا تھا کہ محمد ﷺ کی صداقت کے ایسے نشان ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہاں اس کا غصہ اور کینہ عقل پر اتنا غالب آچکا تھا کہ اس نے بدر میں مباہلہ کیا اور کہا اے خدا اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے پر پتھر برسا۔خدا نے اس کی آواز سن لی اور اس پر پتھر ہی بر سے - (الانفال : (۳۳) مگر یہ ابو جہل وہی تھا جس نے اپنی خاص مجلس میں کہا تھا۔محمد ( ﷺ ) باتیں تو سچی کہتا ہے مگر ہمارے باپ دادا نے کب اس کے باپ دادا کی غلامی کی ہے کہ ہم اس کی باتیں مان لیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہی انسان سب کچھ بھلا کر اور تمام ان کیفیات کو چھوڑ کر جو اس کے دل میں رسول کریم ﷺ کی سچائی کے متعلق پیدا ہوئی تھیں۔مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا اور مقابلہ بھی معمولی نہیں۔انسانوں کے سامنے نہیں بلکہ خدا کے سامنے کہنے لگا کہ اگر یہ سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا۔کیا یہ بظاہر جنون کی حالت نہیں ہے۔روہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا یہ کہ کہیں یہ روایت کہ کبھی کبھی ابو جہل کے دل میں رسول کریم کی صداقت کا خیال آجاتا تھا جھوٹی ہے یا پھر یہ ہے کہ رسول کریم اے سے مباہلہ کرنے کا جو ذکر آتا ہے وہ غلط ہے۔قرآن کریم میں اشار تأیہ ذکر ہے نام نہیں لیا گیا اس لئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے مباہلہ نہیں کیا ہو گا لیکن قرآن کریم سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کفار میں