خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 237

۲۳۷ سال 1927ء بے جا محبت اور غضب سے بچو فرموده ۴/ نومبر۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: سورۃ فاتحہ جہاں ہمیں اور بہت سے سبق سکھاتی ہے وہاں ہمیں اس سے یہ نکتہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صداقت اور راستی کے چھوڑنے کے دنیا میں روہی باعث ہوا کرتے ہیں۔اور وہ دو باعث کینہ اور محبت ہیں۔یا تو انسان کینہ کی وجہ سے راستی اور صداقت کو چھوڑتا ہے یا محبت کی وجہ سے۔انسان کو سامنے نظر آنے والے یہی دو سبب ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے اور اخلاقی بواعث ہوتے ہیں جو حقیقت میں کینہ اور محبت کے موجبات ہوا کرتے ہیں۔مگر سامنے آنے والے اور نمایاں طور پر سامنے آنے والے یہی باعث ہوتے ہیں کہ یا تو انسان کسی سے کسی سبب سے ناراض ہو جاتا ہے اور ناراضگی کی وجہ بڑھاتے بڑھاتے اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کی عقل بالکل ماری جاتی ہے۔اس کے لئے ایک جگہ ٹھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔سیدھے راستہ پر چلنا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔وقار اس کے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔سنجید گی چھوٹ جاتی ہے اور وہ دیوانے کہتے کی طرح جسے اپنی دیوانگی کی حالت میں دنیا کے تمام مقاصد میں سے بہترین مقصد کاٹنا نظر آتا ہے۔اسی طرح اس کے سامنے بھی ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ کائے۔گویا اس کے نزدیک بہترین کام دوسروں کو قتل کرنا مارنا اور نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔یہ حالت کبھی ترقی کرتے کرتے جنون کی حد تک پہنچ جاتی ہے کبھی جنون تو نہیں آتا مگر یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ابھی امریکہ میں ایک بہت بڑا آدمی پکڑا گیا ہے اس کے متعلق لکھا ہے کہ اسے اس بات کا جنون تھا کہ لوگوں کو قتل کرے خصوصاً عورتوں کو۔اس نے کئی عورتوں اور لڑکیوں کو قتل کیا۔قتل کرنے کی کوئی وجہ اور باعث نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کسی بات پر کسی وقت اس کا غضب بھڑکا۔کسی عورت سے معلوم ہوتا