خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 233

خطبات محمود ۲۳۳ سال 1927ء نہیں جاتے رہتے۔لیکن ارتکاب جرم کے یقین تک پہنچنے کے بعد مجرم کی مدد کرنا جائز نہیں ہے۔اور لاہور کے جو دونوں ملزم تھے۔ان کے متعلق یقین کا موقع نہ تھا۔یقین اسی وقت ہوا جب مجسٹریٹ نے تحقیقات کی۔میرے نزدیک مسلمان وکلاء سے غلطی ہوئی کہ وہ ان ملزموں کی مدد کے لئے کھڑے نہ ہوئے اور پھر دوسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے کھڑے نہ ہونے پر فخر کیا۔انہیں مقدمہ کے شروع ہونے کے وقت ضرور امداد دینی چاہئے تھی۔ہاں جب جرم ثابت ہو جاتا۔تو مقدمہ چھوڑ سکتے تھے۔جن واقعات کا اس وقت ذکر ہے۔ان میں الزام ثابت نہ ہوا تھا کہ قانونی امداد نہ دی گئی۔جس کا یہ مطلب ہے کہ بیسیوں ایسے لوگ پکڑے جائیں گے جنہوں نے کوئی جرم نہ کیا ہو گا مگر مسلمان ان کی امداد کرنا چھوڑ دیں گے اور وہ مصائب اور آلام میں گرفتار ہو جائیں گے۔میرے نزدیک یہ بہت بڑی غداری ہوگی۔جب کسی کے اپنے بیان سے جرم ثابت ہوتا ہے تو اس کی امداد کرنا ظالمانہ فعل ہے۔لیکن جب تک جرم ثابت نہ ہو بغیر مدد کے چھوڑ دینا قومی غداری ہے۔باقی یہ کہنا کہ ان مقدمات میں سزا سخت دی گئی ہے۔اگر جرم ثابت ہے تو پھر سزا سخت نہیں۔میرے خیال میں اس سے بھی سخت ہونی چاہئے تھی۔کوئی وجہ نہیں کہ بغیر اشتعال اور بغیر خود حفاظتی کے کسی کو قتل کیا جائے۔یہ بہت بڑا ظالمانہ فعل ہے۔کسی نے مجھ سے کہا۔ان مجرموں کو بہت سخت سزادی گئی ہے۔میں نے کہا ذرا اپنے اوپر قیاس کر لو۔اگر تمہارے کسی آدمی پر حملہ ہو۔تو تم حملہ آور کے لئے کیسی سزا چاہو گے۔غرض جب تک جرم ثابت نہ ہو۔ملزموں کی مدد کر نا قومی فرائض میں سے ہے نہ کہ قومی رعایت۔ہاں جب جرم ثابت ہو جائے تو مدد کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ہمارا نقطہ خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کا جرم شروع میں ثابت نہ تھا۔اس وقت ان کو مسلمانوں کی طرف سے قانونی مدد ملنی چاہئے تھی۔اگر انہوں نے خود کسی کو وکیل کھڑا نہیں کیا۔تو یہ ان کا کام تھا لیکن اگر انہوں نے وکیل کھڑا کرنے کی کوشش کی۔مگر کسی نے ان کا مقدمہ لینا منظور نہ کیا تو انکار کرنے والوں نے قومی غداری کی۔اور سزا کے متعلق ہماری یہ رائے ہے کہ جہاں ایسے جرم ثابت ہو جائیں وہاں ضرور سخت سزا دینی چاہئے تاکہ دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو۔اور نادان لوگ قوم کو بدنام نہ کریں۔اس میں اسلام اور مسلمانوں ہی کا فائدہ ہے کہ دوسرے سخت سزاؤں سے ڈر کر اس قسم کے افعال کے مرتکب نہ ہوں گے اور مسلمانوں کے لئے بدنامی کے سامان نہ پیدا کریں گے۔ہمیں جو کچھ کہنا چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ مجرم تھے یا نہیں۔ہمیں اس کے لئے اپیل یا دوسرے طریقوں سے کوشش کرنی چاہئے۔لیکن جب جرم ثابت ہو جائے۔خواہ شریعت کے