خطبات محمود (جلد 11) — Page 229
خطبات محمود ۲۲۹ سال 1927ء کے مارے گردنیں اونچی نہیں کر سکتے۔میں کہتا ہوں انہوں نے صحیح لکھا ہے۔اور اگر واقعہ میں ان میں یہی احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ شرم کے مارے گرد میں اونچی نہیں کر سکتے تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ انہوں نے بر انعل کیا۔بلکہ میرے لئے یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جو شخص اسلام کی عزت کی حفاظت کی خاطر ایسا جوش رکھتا ہے اور ہر وہ بات جو اسلام کی بدنامی کا موجب ہو۔اس پر شرم محسوس کرتا ہے تو یہ اس کی اسلام سے محبت کی علامت ہے۔میں نے جب یہ واقعہ پڑھا کہ اس طرح ایک ہندو پر حملہ ہوا ہے تو اس وقت میں شملہ میں تھا۔اس وقت میں نے ہر مجلس میں اس فعل پر اظہار نفرت کیا۔ہندوؤں کے سامنے کم۔صرف ایسے ہندوؤں کے سامنے جنہوں نے اس کے متعلق سوال کیا اور مسلمانوں کے سامنے زیادہ کیونکہ میرے نزدیک اس امر کی تعلیم کی ضرورت مسلمانوں کو تھی کہ ان کے دلوں میں اسلام کی حمیت حمیت جاہلیہ کے طور پر پائی جاتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔میرا خیال ہے اس قسم کا دوسرا حملہ میرے قادیان میں آجانے کے بعد ہوا۔اسے بھی میں نے سخت ناپسند کیا۔در حقیقت ہمارا یہ حق تو نہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ جن کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے حملہ کیا وہ مجرم تھے یا نہیں۔لیکن ایک بات ہے جو کھٹکتی ہے۔اور وہ ان کے اپنے بیانات ہیں جو انہیں مجرم بناتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کی دشمنی کی وجہ سے جھوٹے گواہ بنالئے جاتے ہیں۔لیکن اس بات کے تسلیم کرنے میں یہ وقت ہے کہ ان لوگوں کے اپنے بیانات ایسے ہیں جو ان پر الزام لگاتے ہیں۔پس اس حالت میں کہ وہ اپنی زبان سے ایک رنگ میں اقرار جرم کرتے ہیں۔ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم مجسٹریٹوں کے فیصلوں پر اعتراض کریں یا انہیں غلط قرار دیں۔پس جہاں تک ہماری عقل جاتی ہے ہم مجسٹریوں کے فیصلہ کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں۔اور یہ کہنے سے نہیں رک سکتے کہ اگر فی الواقعہ ملزموں نے یہ فعل کیا ہے تو نہایت نا پسندیدہ اور قابل اعتراض فعل کیا ہے۔ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلی تحریروں کی دشمنی کی وجہ سے نہیں بلکہ ہندوؤں کے اشتعال دلانے سے ایسا ہوا ہے۔جیسا کہ ایک ملزم نے اپنے بیان میں کہا بھی ہے کہ میں دکان کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ہندوؤں نے رسول کریم اے کی پتنگ کی اور اس پر لڑائی ہو گئی تو پھر ان کا جرم جرم نہیں رہتا بلکہ خود حفاظتی ہو جاتی ہے۔اگر کچھ لوگ کسی پر حملہ کر دیں تو اس کے ہاتھوں کسی کا زخمی ہو جانا خود حفاظتی ہو گی۔لیکن اس بات کو ان کے اپنے بیان ہی رد کرتے ہیں۔اور جب تک ان کے وہ بیان موجود ہیں جو انہوں نے عدالت میں دیئے۔ہم مجبور ہیں کہ تسلیم کریں کہ ان کی خود حفاظتی کی حالت نہ تھی۔بلکہ جیسا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ کیا