خطبات محمود (جلد 11) — Page 228
خطبات محمود ۲۲۸ سال 1927ء کے ذریعہ نفع ضرور حاصل کیا۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض نے اس سبق کو جو میں نے انہیں دیا تھا بھلا دیا۔انہوں نے میری نصیحت کی قدر نہ کی اور میری حکمت کی علت غائی کو نہ سمجھا۔اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جس طرح نادان دوست اپنے دوست کی امداد کے لئے اٹھتا ہے۔ان کی مدد بالکل اسی طرح تھی۔جس طرح کہتے ہیں کسی نے ریچھ سے دوستانہ ڈالا ہوا تھا۔اور ان کے بہت گہرے تعلقات تھے۔ریچھ اس شخص کی بہت خدمت کیا کرتا تھا۔ایک دن وہ کہیں با ہر کام کو گیا اس کی ماں جو بیمار تھی اس کے پاس ریچھ کو بٹھا گیا اور اشارے سے بتا گیا کہ مکھیاں اڑا تار ہے۔انسان کے ہاتھ میں جس قسم کی لچک مختلف قسم کے کام کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔دیسی ریچھ کے پنجہ میں کہاں ہو سکتی ہے۔ریچھ کھیاں اڑا تا مگر وہ پوری طرح نہ اڑتیں۔اس پر اس کے دل میں جوش پیدا ہوتا کہ میرا آقا اور محسن مجھے کہہ گیا تھا کہ مکھیاں اڑاتا رہوں مگر یہ اڑتی نہیں۔ایک مکھی جو آنکھ پر بیٹھی تھی اسے اس نے بار بار اڑایا مگر ادھر اڑے ادھر پھر آبیٹھے۔ریچھ نے سمجھا اس طرح تو یہ باز نہ آئے گی۔پاس ایک بڑا پتھر پڑا تھا اسے اٹھا لایا اور عورت کے منہ پر دے مارا تا کہ مکھی مرجائے۔لکھی تو شائد اڑ گئی ہو مگر اس شخص کی ماں پتھر سے مرگئی۔ریچھ نے اپنے خیال میں مکھی اڑائی تھی۔اور اپنے آقا اور محسن سے اخلاص اور محبت کا اظہار کیا تھا۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے اس غرض اور مقصد کو ضائع کر دیا جس کے لئے اسے لکھیاں اڑانے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔پس بعض مسلمانوں نے ایسی تدابیر اختیار کیں جو نیک نامی کا موجب نہیں ہو ئیں۔بلکہ اعتراض کا باعث بن گئی ہیں۔اسلام دفاع اور خود حفاظتی سے نہیں روکتا۔لیکن اسے جائز قرار نہیں دیتا کہ بغیر دفاع کی حالت کے اور بغیر خود حفاظتی کی ضرورت کے یونسی کسی پر حملہ کر دیا جائے۔مگر پچھلے دنوں دو واقعات ایسے ہوئے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے بعض ہندوؤں پر حملہ کیا۔وہ مسلمان اپنے گھروں اور اپنے محلوں سے چلے اور ہندوؤں کے محلوں اور ان کی درگاہوں پر جاکر انہوں نے حملہ کیا۔اور اس طرح ان کو زخمی کیا۔اور ایک کے متعلق تو کہا جاتا ہے اسے مار ڈالا۔شائد وہ اپنے نزدیک (اگر انہوں نے یہ فعل کیا ہے) خیال کرتے ہوں گے کہ انہوں نے اسلام کی خدمت کی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ بھی جو اسلام کی طرف سے تلوار چلانے کو نا پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھتے تھے۔وہ بھی اب کھلے الفاظ میں ایسے لوگوں کے افعال سے حقارت اور نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔اور بعض مسلمانوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہم شرم