خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 222

خطبات محمود ۲۲۲ سال 1927ء فضل اور تائید کا وارث کر دیتا ہے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر درجہ کے انسان کے لئے دلائل مقرر ہیں مثلاً نبوت کے لئے دلائل ہیں۔ان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم سچے نبی تھے۔اور جب ان دلائل کے رو سے آپ کی نبوت ثابت ہو جائے تو پھر آپ کے نی ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کہیں رسول کریم اجتہادی غلطی بھی نہیں کر سکتے تھے۔اجتہادی غلطی آپ سے بھی ہو جاتی تھی۔جو چیز ثابت ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ نبوت کے مقام پر خدا تعالٰی نے آپ کو قائم کیا یا نہیں۔ورنہ نادان جو آپ کی کوئی اجتہادی غلطی یا کسی فیصلہ کی غلطی یا قضا کی غلطی پکڑ کر یہ سمجھ لے کہ اس کا آپ سے اختلاف رکھنا اور آپ سے دشمنی اور عداوت کرنا معاف ہو جائے گا یہ سخت غلطی ہے۔جب تک کوئی انسان آپ کا پوری طرح مطیع اور فرمانبردار نہ ہو گا۔آپ کا حامی اور ناصر نہ ہو گا۔آپ کی تحمید اور تعریف کرنے والا نہ ہو گا۔خدا تعالیٰ کے حضور مغضوب اور ذلیل رہے گا۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے جھگڑوں اور فسادوں کی وجہ سے نبی یا اس کے خلیفہ سے بغض و عداوت پیدا کر لیتے ہیں۔کوئی مقدمہ ہوا جس کا فیصلہ ان کی منشاء کے ماتحت نہ ہوا۔یا کوئی بات انہوں نے پیش کی جس کی طرف اس لئے توجہ نہ کی گئی کہ دبا دینے سے وہ بات رک جائے گی۔تو وہ بات کو بڑھاتے اور فتنہ پیدا کرتے ہیں۔چنانچہ پچھلے دنوں ایک شخص کسی کے سامنے منافقت کی باتیں کر رہا تھا۔وہ قادیان کی برائی بیان کر رہا تھا کہ ایک شخص نے سننے والے سے کہا تم بھی ان باتوں میں شامل ہو۔کیوں ایسی باتیں سنتے ہو۔اس نے کہا میرا فیصلہ بھی دو سال سے چلا آ رہا ہے جو نہیں کیا جاتا۔اس امر کو اس نے ان باتوں میں شمولیت کی وجہ قرار دے لیا۔فیصلہ کرنا یا نہ کرنا میرا اور خدا تعالیٰ کا تعلق ہے۔مگر میں نہیں سمجھ سکتا جو شخص ایک طرف تو بیعت کا مدعی ہو اور دوسری طرف خلیفہ پر اعتراض سے۔اور اعتراض کرنے والے کو اپنے عمل سے مدد دے۔وہ کس طرح خدا تعالی کی ناراضگی سے بچ سکتا ہے۔میرا تمہار ا عام انسانوں کا سا تعلق نہیں بلکہ خلیفہ اور مرید کا تعلق ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری تائید میں کوئی نشان دکھائے ہیں یا نہیں۔اس کا ایسا ثبوت ملتا ہے کہ جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اگر عقل اور سمجھ سے کام لیکر دیکھا جائے تو خدا تعالیٰ کے نبیوں سے اتر کر خواہ کوئی کتنا بڑا ولی ہو۔خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق اتنے نشان نہیں دکھلائے جتنے میرے لئے دکھائے ہیں بھلا بتاؤ تو سہی وہ کو نسا انسان گزرا ہے جس کے لئے خدا تعالٰی نے نبیوں سے پیشگوئیاں کرا ئیں۔لیکن میرے متعلق میرے خدا نے نبیوں سے پیشگوئیاں کرائیں۔بنی اسرائیل کی کتابوں میں