خطبات محمود (جلد 11) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال 1927ء یا غلطی میں مبتلا نہیں جسے اعتراض سمجھتا ہے وہ اعتراض نہیں ہے۔اسی طرح نظام سلسلہ ہے یا جماعت اور خلیفہ کے تعلقات ہیں۔اس کے لئے جماعت کی روحانی حالت اور اس کے ایمان کو دیکھنا چاہئے۔اور ان دلائل سے پر کھنا چاہئے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔اگر کوئی اس طرح کرتا ہے اور ان دلائل کو دیکھنے کے بعد ایمان لاتا ہے تو پھر کسی اعتراض کی وجہ سے اسے شبہ کسی طرح پیدا ہو سکتا ہے۔اور اگر اسے شبہ پیدا ہوتا ہے تو معلوم ہوا اس نے دلائل کی رو سے نہیں مانا تھا اور اس کا یہ کہنا کہ وہ دلائل کے رو سے ایمان لایا تھا۔جھوٹ ہے۔ایک نابینا اگر کسی سے سن کر یہ کہہ دے کہ سورج چڑھا ہوا ہے مگر دوسرا شخص اسے کہہ دے نہیں چڑھا ہوا تو وہ کہہ دے گا نہیں چڑھا ہوا کیونکہ اس نے سن کر مانا تھا کہ سورج چڑھا ہوا ہے خود نہیں دیکھا تھا۔اس لئے جب اسے یہ کہہ دیا گیا کہ نہیں چڑھا ہوا تو اس نے بھی یہی کہہ دیا۔لیکن جس نے اپنی آنکھوں سے سورج چڑھا ہوا دیکھا ہو وہ کسی کے کہنے سے ہر گز انکار نہیں کرے گا۔اس طرح جو شواہد اور دلائل کو دیکھ اور پر کھ کر ایمان لاتا ہے اس کے سامنے اگر ساری دنیا بھی اعتراض کرے تو اس پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔اس کے سامنے اعتراضوں کی ہستی ہی کیا ہو سکتی ہے۔پس اعتراضات اس عظمند انسان کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتے جس نے مشاہدہ اور دلائل سے صداقت کو مانا ہو۔ہاں جو لوگ نا بینا ہوتے ہیں اور ازلی نابینادہ سنی سنائی باتیں مانتے ہیں۔انہیں نہ رسول پر ایمان ہوتا ہے نہ خلفا ء پر اور نہ نظام سلسلہ کی صداقت پر۔وہ اندھوں کی طرح سن کر ایک راستہ پر چل پڑے تھے۔جب کسی نے کہہ دیا یہ راستہ صحیح نہیں تو وہ اس سے بدل گئے۔پس جو اعتراض سن کر بدلتا ہے وہ ضرور نابینا ہے کیونکہ اگر ایک بات کو اس نے دلائل اور معیاروں سے مانا تھا تو جب تک وہ معیار باطل نہ قرار دے لے اسے چھوڑ نہیں سکتا۔مثلاً نبی کی صداقت کا معیار ہے کہ خدا تعالی کی طرف منسوب ہونے والے جھوٹے انسان کو خدا کبھی کبھی مہلت نہیں دیتا۔اس کی لائی ہوئی تعلیم دنیا میں جاری نہیں ہوتی۔اور اگر جاری ہو تو چند سال کے لئے ہوتی ہے۔پھر یہ معیار ہے کہ کثرت سے غیب کی خبریں جھوٹے کو نہیں دی جاتیں۔یہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح یہ معیار ہے کہ خدا کی نصرت اور تائید غیر معمولی مشکلات کے وقت غیر معمولی طور پر جھوٹے کو حاصل نہیں ہوتی۔ان معیاروں کے رو سے جب ایک انسان ایمان لاتا ہے مگر دو سرا آکر کہتا ہے اس نے لوگوں کا روپیہ کھالیا۔فلاں موقعہ پر جھوٹ بولا۔فلاں اخلاقی کمزوری دکھائی تو کیا یہ باتیں ان معیاروں کو باطل قرار دے دیں گی ؟ ہر گز نہیں۔ایسی حالت میں تو یہ دیکھیں گے کہ وہ معیار اس پر چسپاں ہوتے ہیں