خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 210

۲۱۰ خدائی سلسلوں کی مخالفت (فرموده ۱/۱۴ اکتوبر ۱۹۲۷ء) سال 1927ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: یہ اللہ تعالٰی کی سنت ہے کہ جب بھی کوئی الہی سلسلہ اور روحانی جماعت قائم ہوتی ہے تو اس کے راستہ میں قسم قسم کی مشکلات اور مصائب ایک لحاظ سے تو اللہ تعالی کے قانون کے ماتحت ہوا کرتی ہیں۔اللہ تعالی دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس سلسلہ کی بنیاد کسی انسانی خیال اور تجویز پر نہیں۔بلکہ اس کی بنیاد اللہ تعالی کے فضل پر ہے۔لیکن اصل میں یہ مشکلات جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے شیطان کی طرف سے آتی ہیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولِ وَلَا نَبِتِ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِى أُمَنَيَتِهِ فَيَنْسَعُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحكم الله التِهِ وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (الج : ۵۳) کہ ہر نبی اور رسول خدا بھیجتا ہے۔وہ جن خواہشوں۔جن مقاصد اور جن امور کو لیکر آتا ہے۔ان کے پورا ہونے میں شیطان روک ڈالتا ہے۔کوئی بھی نبی اور رسول ایسا نہیں آیا جس کے ہر مقصد ہر دعا ہر مطلب اور ہر تڑپ کے آگے شیطان نے روکیں نہ ڈالی ہوں۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر نبی کامیاب ہو گیا تو پھر میرا ٹھکانا کہیں نہیں۔جس طرح مرتا ہوا آدمی پورا زور لگاتا ہے۔اسی طرح شیطان اور اس کی ذریت انبیاء اور ان کی جماعت کے خلاف پورا زور لگاتی ہے جنہوں نے مرنے والوں کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس بے ہوشی میں جس میں دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔جب کہ ساری طاقت زائل ہو چکی ہوتی ہے اور تمام قوت خرچ ہو چکی ہوتی ہے مگر مرنے سے چند ساعت پہلے مرنے والا اس طرح زور لگاتا ہے کہ گویا وہ اس دنیا میں واپس آنا چاہتا ہے۔