خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 182

سال 1927ء ۱۸۲ خطبات محمود خوش ہوتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی یہ یقین نہیں دلا سکتا۔ کہ اس کے ذریعہ ضرور مقدمہ میں کامیابی حاصل ہوگی۔ اور کوئی مشہور سے مشہور ڈاکٹر یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ مریض کو ضرور اچھا کر دے گا۔ لیکن جب اپنا معاملہ خدا تعالی کے سپرد کیا جائے تو بجائے خوشی کے آثار کے اور چستی کی نمود کے چہروں سے اداسی اور مردنی ٹپک رہی ہو ۔ ہم ست اور غافل ہو جائیں۔ تو کون کہہ سکتا ہے کہ ہم نے تو کل پر عمل کیا۔ پس وہ تو کل نہیں ہو تا جس کے نتیجہ میں مردنی اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ تو کل امید پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اپنا کام سب سے اعلیٰ اور سب سے طاقت ور ہستی کے سپرد کر دیا ہے مگر مسلمانوں کی موجودہ حالت دیکھو اور پھر اندازہ لگاؤ۔ کہ کیا واقعہ میں انہوں نے خدا تعالی پر توکل کیا ہوا ہے۔ میں تو کل کے ا معنی آگے بیان کروں گا۔ یہاں میں یہ کہتا ہوں کہ جسے تو کل کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ دیکھو۔ اس کے نتیجہ میں تو اُمنگ ۔ چستی اور بشاشت پیدا ہونی چاہئے۔ نہ کہ نا امیدی سستی اور مردنی۔ دیکھو ایسے وقت جب کہ ایک فوج ہار رہی ہو۔ ایک بڑا کامیاب جرنیل وہاں پہنچ جائے۔ ست ہو جس کے سپرد فوج کی کمان کر کے کہا جائے لیجئے اب آپ مقابلہ کریں۔ تو اس وقت وہ فوج - جائے گی یا چست یا مثلاً ایک جگہ مباحثہ ہو رہا ہو اور ایک فریق کا مناظر ہار رہا ہو کہ اس کی امداد کے لئے ایک زبر دست مناظر وہاں پہنچ جائے اور خود مناظرہ کرنا شروع کر دے تو کیا اس وقت وہ لوگ است پڑ جائیں گے یا ان میں چستی آجائے گی۔ اگر واقعہ میں مسلمان خدا تعالیٰ پر توکل کر رہے ہوتے تو ان کے ہر کام ہر فعل اور ہر پیشہ میں چستی چالا کی پائی جاتی۔ مگر اس کی بجائے ہر پیشہ میں سستی نظر آتی ہے۔ اور ان کے چاروں طرف ناکامی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ میں نے پچھلے دنوں مسلمانوں کی ہمدردی اور ان کی بہتری کے لئے ایک اعلان شائع کیا تھا۔ ہماری جماعت جتنی غریب اور جیسی قلیل ہے اسے اکثر لوگ جانتے ہیں۔ گو بعض نہیں بھی جانتے اور وہ سمجھتے ہیں بڑی مالدار جماعت ہے۔ میں نے اعلان کیا تھا کہ مسلمانوں کو ملازمتوں اور دوسرے کاروبار میں جو دقتیں : جو دقتیں ہوں ان سے اطلاع دیں۔ تاجہاں تک ہم سے ؟ اسے ہو سکے ہم ان کی مدد کریں۔ یا جو دو سرے مسلمان دور کر سکیں ان سے دور کرائیں۔ اس پر ان دو مہینوں میں قریباً قریباً دو لاکھ روپیہ کی درخواستیں میرے پاس آچکی ہیں۔ جو لوگوں نے بھیجی ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے اتنے روپیہ کا انتظام کر دیں۔ اگرچہ میں نے اعلان میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ ہم کسی قسم کی مدد کریں گے مگر باوجود اس کے مسلمانوں کے افلاس کی حالت اس درجہ درد ناک ہے