خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 180

سال 1927ء ۱۸۰ خطبات محمود نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کے لئے ایک گر بتایا ہے۔ اور ان کو کامیابیوں کے لئے ایک راز سے آگاہ کیا ہے۔ اور ہر مسلمان کو توجہ دلائی ہے کہ اس گھر پر عمل کرے۔ وہ گر کیا ہے ؟ وہ تو کل علی اللہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر وہ بندہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے اس کا فرض ہے کہ مجھ پر توکل کرے اس کی تمام دینی اور دنیوی کامیابیوں کا راز اسی میں ہے۔ توکل کے معنی عربی میں کسی کام کو پورے طور پر لے لینے اور کسی کام کو پورے طور پر کسی کے سپرد کر دینے کے ہیں۔ ان معنوں کی وجہ سے مسلمانوں میں بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ تو کل کے معنی یہ ہیں کہ انسان خود کام چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ کچھ محنت اور کوشش نہ کرے۔ اور یہ سمجھ لے کہ خدا خود بخود سب کچھ کر دے گا۔ چنانچہ مسلمان سمجھتے ہیں خدا پر توکل کرنے والا وہی ہوتا ہے جو ہر قسم کی محنت سعی اور کوشش سے آزاد ہو جائے۔ اگر کوئی محنت اور کوشش کرتا ہے تو وہ خدا پر توکل نہیں کرتا۔ اس خیال کی وجہ سے مسلمانوں میں عام طور پر ستی اور لاپرواہی پیدا ہو گئی ہے اور وہ اس حد تک غفلت برتنے لگ گئے ہیں کہ ان کے تمام کاموں میں غفلت اور سستی کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ان کا زمیندارہ لو تب۔ تجارت لو تب - پیشوں کو لو تب ان سب میں دوسری قوموں کے مقابلہ میں بے حدست نظر آتے ہیں۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے کے سارے مسلمان تھک کر چور ہو چکے اور زندگی سے بیزار بیٹھے ہیں۔ اگر توکل کا یہی نقشہ نظر آئے ۔ اور وہ تو کل جس کا حکم خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دیا ہے اس کا یہی نتیجہ ہو کہ دنیا میں غافلوں۔ مستوں اور محکموں کی ایک جماعت پیدا ہو جائے۔ جس کے چہروں سے ظاہر ہو کہ زندگی سے تنگ آئے ہوئے ہیں اور مرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ اگر اٹھیں تو ایسا معلوم ہو کہ ساری دنیا کا بوجھ ان کے اوپر رکھ دیا گیا ہے۔ اور اگر بیٹھیں تو یوں معلوم ہو کہ آسمان سے دھکے دے کر انھیں گرایا گیا ہے۔ وہ اگر کام کریں تو یوں معلوم ہو کہ ان کے ہاتھ کئی کئی من کے بو جھل ہیں۔ وہ اگر بات کریں تو یوں معلوم ہو کہ رو رہے ہیں۔ وہ اگر آنکھ کھولیں تو یوں نظر آئے کہ نیند کے غلبہ سے مدہوش ہیں۔ اگر یہی تو کل کا نتیجہ ہے تو ہم کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے قیامت کو جلد لانے کے لئے تو کل کا حکم دیا ہے تاکہ اس طرح لوگ جلدی تباہ و برباد ہو جائیں۔ لیکن کیا کوئی عقلمند یہ خیال کر سکتا ہے کہ اللہ تعالی کسی قوم کی ترقی کے لئے وہ حکم دے جو اس کی تباہی کا باعث ہو ۔ کیا خدا تعالی کو اپنا منشاء پورا کرنے کے لئے (نعوذ باللہ ) دھوکوں اور فریبوں کی ضرورت ہے۔ یوں تو وہ دنیا پر قیامت نہیں لا سکتا تھا۔ اس نے کہا چلو تو کل کا حکم دو۔ جب لوگ اس پر عمل کریں گے تو تباہ و برباد