خطبات محمود (جلد 11) — Page 163
147 سال 1927ء سنتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہتا ہوں کہ اس وقت جوش میں لانے اور بھڑ کانے والی باتیں مفید نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جوش کو قابو میں رکھ کر مستقل قربانی کی جائے جو لوگ اسلام کے لئے مستقل قربانی نہیں کر سکتے۔ان کا جوش حقیقی جوش نہیں ہے۔بلکہ دھوکا اور فریب ہے۔ابھی ہمارا ایک بھائی اور اس کا ایک رشتہ دار قید خانہ میں گئے ہیں محض اس لئے کہ انہوں نے ہائیکورٹ کے جوں کے نزدیک ایک جج کی ہتک کی ہے۔میں ہر گز ان ججوں سے اتفاق نہیں کرتا اور میرے نزدیک مسلم آوٹ لک (Muslim Out Look) نے ہرگز ہتک نہیں کی میں تو یہ کہتا ہوں بجائے اس کے مسلم اوٹ لک کو اس مضمون کی وجہ سے سزادی جاتی۔ججوں کو چاہیے تھا۔کہ اس کی آواز کی قدر کرتے۔جو رسول کریم ﷺ کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے اٹھائی گئی تھی۔مگر جوں کا ادھر ذہن منتقل نہ ہوا۔بلکہ اس طرف گیا کہ مسلم اوٹ لک نے حج کی ہتک کی ہے۔اس وجہ سے مسلم آوٹ لک کے ایڈیٹرو پر نٹر کو سزا دے دی۔حالانکہ جو شخص اس مضمون کو ٹھنڈے دل سے پڑھے گا۔یا ان جذبات کو مد نظر رکھ کر پڑھے گا۔جو ایک مسلمان کے ہوں۔وہ ہر گز نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں حج کی بنک کس طرح ہوتی ہے۔میرے نزدیک مسلم آوٹ لک کا یہ جرم نہیں تھا بلکہ اس نے قابل تعریف بات کی تھی کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق غیرت دکھائی تھی۔ہر مذہب کے آدمی کو اس کی قدر کرنی چاہیے تھی کہ آوٹ لک کا ایڈیٹر اپنے رسول کے متعلق وفادار انسان ہے۔اور وفاداری پر کوئی ناراض نہیں ہوا کرتا۔مگر جوں کے نزدیک یہی بات ثابت ہوئی کہ اسے سزا دینی چاہیے۔اس وجہ سے مسلمانوں میں اور جوش پیدا ہو گیا۔اور اب ان کے سامنے یہ معاملہ آگیا کہ ایک ہائی کورٹ کے جج کی بنک کے الزام میں تو ہائی کورٹ نے ایک ہفتہ کے اندر اندر سزا دے دی۔لیکن رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والا دو اڑ ہائی سال مقدمہ بھگت کر بالکل بری ہو گیا۔جو ایک ایسا امر ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی طبائع میں جوش پیدا ہو نالازمی بات ہے۔وہ حیران ہیں۔اس قانون اور اس انتظام پر کہ ایک حج کی ہتک کا اثر تو ہائی کورٹ پر اتنا پڑا کہ ہفتہ کے اندر اندر ایڈیٹر اور پرنٹر مسلم آوٹ لک کو جیل خانہ میں بھیج دیا۔مگر محمد کی ہتک کرنے والا مہینوں آزاد پھر تارہا۔اور آخر بالکل آزاد ہو گیا پھر یہاں کہنے والا تو صرف یہ کہتا ہے۔کہ حج کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کن حالات کے ماتحت یہ فیصلہ ہوا۔مگر وہاں گندی سے گندی گالیاں دی گئی ہیں۔پھر جس انسان کو گالیاں دی گئی ہیں وہ ہستی ہے کہ جس کے لئے