خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 163

سال 1927ء ۱۶۳ خطبات محمود سنتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہتا ہوں کہ اس وقت جوش میں لانے اور بھڑکانے والی باتیں مفید نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جوش کو قابو میں رکھ کر مستقل قربانی کی جائے جو لوگ اسلام کے لئے مستقل قربانی نہیں کر سکتے ۔ ان کا جوش حقیقی جوش نہیں ہے۔ بلکہ دھوکا اور فریب ہے۔ ابھی ہمارا ایک بھائی اور اس کا ایک رشتہ دار قید خانہ میں گئے ہیں محض اس لئے کہ انہوں نے ہائیکورٹ کے چوں کے نزدیک ایک بج کی ہتک کی ہے۔ میں ہر گز ان جوں سے اتفاق نہیں کرتا اور میرے نزدیک مسلم آوٹ لک (Muslim Out Look) نے ہرگز ہتک نہیں کی میں تو یہ کہتا ہوں بجائے اس کے مسلم اوٹ کے لک کو اس مضمون کی وجہ سے سزادی جاتی۔ ججوں کو چاہیے تھا۔ کہ اس کی آواز کی قدر کرتے۔ جو رسول کریم ﷺ کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے اٹھائی گئی تھی۔ مگر جوں کا ادھر ذہن منتقل نہ ہوا۔ بلکہ اس طرف گیا کہ مسلم اوٹ لک نے حج کی ہتک کی ہے۔ اس وجہ سے مسلم آوٹ لک ۔ ایڈیٹر و پر نٹر کو سزا دے دی۔ حالانکہ جو شخص اس مضمون کو ٹھنڈے دل سے پڑھے گا۔ یا ان جذبات کو مد نظر رکھ کر پڑھے گا۔ جو ایک مسلمان کے ہوں۔ وہ ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں بج کی ہتک کس طرح ہوتی ہے۔ میرے نزدیک مسلم آوٹ لک کا یہ جرم نہیں تھا بلکہ اس نے قابل تعریف بات کی تھی کہ رسول کریم ال کے متعلق غیرت دکھائی تھی۔ ہر مذہب کے آدمی کو اس کی قدر کرنی چاہیے تھی کہ آوٹ لک کا ایڈیٹر اپنے رسول کے متعلق وفادار انسان ہے۔ اور وفاداری پر کوئی ناراض نہیں ہوا کرتا۔ مگر جوں کے نزدیک یہی بات ثابت ہوئی کہ اسے سزادینی چاہیے ۔ اس وجہ سے مسلمانوں میں اور جوش پیدا ہو گیا۔ اور اب ان کے سامنے یہ معاملہ آگیا کہ ایک ہائی کورٹ کے حج کی ہتک کے الزام میں تو ہائی کورٹ نے ایک ہفتہ کے اندر اندر سزادے دی۔ لیکن رسول کریم ال کی ہتک کرنے والا دو اڑ ہائی سال مقدمہ ؟ رمہ بھگت کر بالکل بری ہو گیا۔ جو ایک ایسا امر ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی طبائع میں جوش پیدا ہونا لازمی بات ہے۔ وہ قانون اور اس انتظام پر کہ ایک حج کی ہتک کا اثر تو ہائی کورٹ پر اتنا پڑا کہ ہفتہ کے حیران ہیں۔ اس قانون اور اس ان اندر اندر ایڈیٹر اور پر نظر مسلم آوٹ لک کو جیل خانہ میں بھیج دیا۔ مگر محمد ﷺ کی ہتک کرنے والا مہینوں آزاد پھر تا رہا۔ اور آخر بالکل آزاد ہو گیا پھر یہاں کہنے والا تو صرف یہ کہتا ہے ۔ یہ کہتا ہے ۔ کہ حج کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کن حالات کے ماتحت یہ فیصلہ ہوا۔ مگر وہاں گندی سے گندی گالیاں دی گئی ہیں۔ پھر جس انسان کو گالیاں دی گئی ہیں وہ ہستی ہے کہ جس کے لئے