خطبات محمود (جلد 11) — Page 10
خطبات محمود ۲ سال 1927ء مجرم سے ہمدردی کرنے سے اخلاقی بدیاں پھیلتی ہیں فرموده ۲۱ جنوری ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : آج میں ایک ایسے امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے اس بات کا مقتضی تھا کہ بجائے اس کے زبانی بیان کرنے کے اسے تحریر میں لاتا۔ لیکن دس بارہ دن سے مجھے روزانہ حرارت ہوتی ہے۔ اور سینہ میں بھی درد رہتا ہے۔ اس لئے لکھنے کا کام حتی الوسع کم کرتا ہوں۔ آج مناسب سمجھتا ہوں کہ خطبہ جمعہ جو خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق بہر حال مجھے کرنا پڑتا ہے۔ بجائے اس مضمون کو پیچھے ڈالنے کے آج کے خطبہ میں ہی اسے بیان کر دوں تاکہ وقت پر وہ لوگوں تک پہنچ جائے۔ وہ مضمون ان امور کے متعلق ہے۔ جو شردھانند صاحب کے قتل کے متعلق پیدا ہوئے ہیں۔ جلسہ کے موقع پر میں نے بیان کیا تھا کہ ان کا قتل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ اور اب تک میری طبیعت کارجحان اس طرف ہے کہ یہ قتل پیشگوئی کے مطابق ہوا ہے۔ پیشگوئی کے الفاظ اس امر پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ پیشگوئی آریوں میں سے ہی اس شخص کے متعلق ہے جو مسلمانوں اور آریوں کے باہمی تعلقات کو کشیدہ کرنے میں لیکھرام صاد رام صاحب کی طرح ہی ثابت ہو گا۔ اور شردھانند صاحب کا قتل بہت سی باتوں میں لیکھرام صاحب کے قتل سے مشابہ ہے۔ اور نتائج کے لحاظ سے بھی شردھانند صاحب کی زندگی لیکھرام صاحب کی زندگی سے ملتی ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ لیکھرام صاحب کے متعلق پیشگوئی کے جو دوحصے تھے وہ دو سرا جود حصہ بھی اس واقعہ سے پورا ہو گیا ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس اعتقاد پر کچھ اعتراضات