خطبات محمود (جلد 11) — Page 153
خطبات محمود ۱۵۳ سال 1927ء کام کیا۔انسان خود تو غافل پڑا تھا مگر اس کا دماغ کام کر رہا تھا۔ہر وہ شخص جسے مشکل مسائل پر غور کی عادت ہو۔اس بات کا تجربہ کر سکتا ہے۔اور آزمانے سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ایک عجیب نکتہ ہے۔مشکل مسئلہ پر انسان غور کرتے کرتے سو جائے۔سونے کے بعد جب اٹھے گا تو بسا اوقات وہ مسئلہ حل شدہ اس کے سامنے ہو گا۔تمام طاقتوں کی یہ کیفیت جو میں نے اس وقت بیان کی ہے بتاتی ہے کہ ان سب سے مقدم دماغ کا کام ہے۔اور خدا تعالی چاہتا ہے کہ انسان سب طاقتوں سے زیادہ دماغ سے کام لیں۔لیکن افسوس بہت لوگ ہیں جو ہا تھوں پاؤں زبان - آنکھوں اور کانوں سے تو کام لینا چاہتے ہیں۔لیکن اگر نہیں لیتے تو دماغ سے کام نہیں لیتے۔ایک آدمی کسی سے ذرا بات پر ناراض ہو کر لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں۔ٹھیک کر رہا ہوں۔حالانکہ اسے چاہئے تھا کہ پہلے دماغ سے کام لیتا اور سوچتا کہ اس موقع پر مجھے کیا کرنا چاہئے۔اگر وہ دماغ سے کام لیتا۔اور اس بات پر غور کرتا۔تو بسا اوقات ایسا ہو تا کہ دماغ اسے بتاتا۔اس موقع پر لڑنے اور جھگڑنے سے فائدہ نہ ہو گا۔اسی طرح بسا اوقات انسان اگر ہاتھ سے نہیں تو زبان سے کام لینا شروع کر دیتا ہے۔یعنی گالیاں دینے لگتا ہے۔وہ بھی اگر دماغ سے کام لیتا۔تو دماغ اسے میں بتانا کہ گالیوں سے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ان سے اپنی زبان کو گندہ نہ کرو۔پھر بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔جو ہاتھوں اور زبان سے کام نہیں لے سکتے۔تو آنکھوں سے کام لیتے ہیں یعنی چہرہ سے غصہ کے آثار ظاہر کرتے ہیں۔کسی کو مارنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اور نہ گالیاں دینے کی۔تو چہرہ سے غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ایسے آدمی بھی اگر دماغ سے کام لیں تو انہیں صحیح راستہ معلوم ہو جائے۔ایسے لوگ ہاتھوں سے زبان سے اور کانوں سے زیادہ کام لینا چاہتے ہیں۔یعنی لڑنے ، گالیاں دینے یا غصہ ہونے لگ جاتے ہیں۔مگر دماغ سے کام نہیں لیتے۔حالانکہ لڑنے ، گالیاں دینے اور غصہ ہونے سے بہت کم کام نکلتے ہیں۔ہمیشہ وہی انسان کامیاب ہوتا ہے جو تدبیر سے کام لیتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دشمنوں نے طرح طرح سے آپ کو دکھ دیئے۔آپ پر اتمام لگائے ، آپ کے ماننے والوں کو تنگ کیا ان پر ظلم کئے لیکن رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو اس بات سے روک دیا کہ وہ ان کے مقابلہ میں اپنے ہاتھ اپنی زبان یا کان استعمال کریں۔اس وجہ سے صحابہ نے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے ہاتھ نہ استعمال کئے ان کو گالیاں نہ دیں ان سے غصہ کے چہرے نہ بنائے اور اگر چہرہ بنایا گیا۔تو اسلام نے اسے ناپسند کیا۔اور یہی کہا کہ دشمنوں کے مظالم