خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ سال 1927ء بڑھ کر کان استعمال کئے جاتے ہیں۔کیونکہ آنکھیں جھپکی جاتی ہیں مگر کان نہیں جھپکے جاتے۔اور جس وقت تک انسان بیدار رہتا ہے کان اپنا کام مسلسل کرتے رہتے ہیں۔بلکہ سونے کے وقت بھی کرتے ہیں۔اس وقت آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔لیکن کان ان کی نسبت زیادہ کھلے رہتے ہیں۔بلکہ آنکھوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے کانوں کی جس اور زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔جب کوئی آواز دے تو کانوں کی جس ہی انسان کو بیدار کرتی ہے اور انسان اٹھتا ہے۔یا لمس کی طاقت کے ذریعہ جاگتا ہے یہ طاقت بھی ہر وقت کام کرتی رہتی ہے۔مگر پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ وقفہ پڑتا ہے۔ان سے بھی بڑھ کر کام کرنے والی ایک اور طاقت ہے۔اور وہ ایسی طاقت ہے۔کہ جب انسان جاگتا ہے۔تو وہ کام دیتی ہے اور جب سوتا ہے۔تو جاگنے کی حالت سے بھی زیادہ کام کرتی ہے اور وہ انسان کا دماغ ہے۔رویا اور کشوف نیند کی حالت میں ہی ہوتے ہیں اور تمام آسمانی علوم اس حالت میں انسان پر اترتے ہیں۔انسان سوتا ہوتا ہے۔مگر دماغ زیادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔یوں ہر ایک انسان نیند میں ظاہری طاقتوں کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے ان باتوں کو پورے طور پر یاد نہیں رکھ سکتا۔جو سونے کے وقت اس پر گذرتی ہیں۔مگر دماغ ہر وقت اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔اور جن کو تقویٰ و طہارت حاصل ہوتی ہے۔اور مخلوق کی اصلاح کے لئے کھڑے کئے جاتے ہیں۔ان کو ساری باتیں جو مخلوق کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں یا د رہتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ انسانی طاقتوں میں سے سب سے زیادہ اور ہر وقت کام کرنے والی طاقت دماغ کی طاقت ہے اور چونکہ اس کے ذریعہ انسان ترقی کے زینے پر چڑھ سکتا ہے۔اس لئے اسی طاقت کو خدا تعالیٰ نے ہر وقت بیدار رکھا ہے۔اگر انسان محض کھانے پینے کے لئے پیدا ہوا ہو تا تو معدہ کو ایسی طاقت دی جاتی کہ وہ ہر وقت خوراک اپنے اندر لے سکتا اور اسے ہضم کرتا رہتا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اس کے کام میں وقفہ پڑ جاتا ہے۔اس طرح اگر انسان صرف نظارے دیکھنے کے لئے یا راگ سننے کے لئے پیدا کیا جاتا تو آنکھوں اور کانوں کو ایسی طاقت دی جاتی کہ وہ ہر وقت اپنا کام جاری رکھتے۔مگر ان پر بھی وقفہ آجاتا ہے۔ہاں جس انسانی طاقت پر وقفہ نہیں آتا وہ انسان کا دماغ ہے جو ہر وقت کام کرتا ہے۔اور بسا اوقات سوتے وقت زیادہ عمدگی سے اور اعلیٰ درجہ کا کام کر جاتا ہے۔ہر شخص اس کا تجربہ کر سکتا ہے کہ اگر کوئی مشکل مسئلہ سمجھ میں نہ آئے۔اس کے حل پر بہت غور کیا جائے مگر حل نہ سوجھے تو انسان اس پر سوچتے سوچتے سو جائے بسا اوقات ایسا ہو گا کہ صبح کو یا رات کو ہی کسی وقت جب آنکھ کھلے گی تو معلوم ہو گا کہ وہ مسئلہ حل ہو گیا۔یہ سوتے سوتے دماغ نے