خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 145

خطبات محمود ۱۴۵ سال 1927ء بڑے افسر نے بھی نہیں کیں۔ہم نے نہتے اور اکیلے گورنمنٹ کے دشمنوں میں رہ کر دکھ اٹھائے۔ان کو سمجھایا کہ گورنمنٹ کے ساتھ وفاداری سے رہو۔ہماری اس وفاداری کے مقابل پر ایک بڑے سے بڑا سرکاری افسر بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اس سے بڑھ کر وفاداری کی۔جب کبھی گورنمنٹ کے برخلاف شورش ہوئی۔آفیسر بنگلوں میں بیٹھ کر کام کرتے رہے مگر ہم گورنمنٹ کے دشمنوں میں رہ کر شورش مٹاتے رہے۔ہم پر عدم وفاداری کا الزام تو وہ لگائے جو فوجیں چھوڑ کر باڈی گارڈ چھوڑ کر اور دوسری حفاظتیں چھوڑ کر ہماری طرح اکیلے اور نہتے ان لوگوں میں رہ کر جو گورنمنٹ کے برخلاف شورش ڈالتے ہیں کام کرے۔اور جس طرح ہم گاؤں گاؤں پھر کر یہ کام کرتے رہے ہیں وہ بھی یہ کام کرے۔اس صورت میں کام کر کے جو افسر ہم سے زیادہ قربانی دکھائے وہ بے شک ہم پر الزام لگائے دو سرے کا حق نہیں۔غرض میرے نزدیک کسی افسر کا بھی حق نہیں کہ ہماری وفاداری پر شبہ کرے۔ہم نے اکیلے رہ کر جو کام کیا ہے اسے کئی افسر باڈی گارڈوں کی حفاظت میں بھی نہیں کر سکتے۔مذہبی طور پر ہمارا یہ فرض ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہم رہیں اس سے وفاداری کریں۔اور اس وجہ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ حکومت کا جو نظام چل رہا ہے اگر اس میں کسی وجہ سے تفرقہ پڑ جائے۔اور رعایا اور آفیسر بادشاہ کے خلاف ہو جائیں۔تو ہماری جماعت یقیناً اس وقت بھی بادشاہ معظم کی وفادار ثابت ہوگی۔اور یہ ہمارا تعلق گورنمنٹ انگریزی کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہر حکومت کے ساتھ ہمارا ایسا ہی تعلق ہے۔جہاں جہاں احمدی ہیں اور جس جس حکومت کے ماتحت یدہ رہتے ہیں ان کے لئے یہی حکم ہے۔کابل کے ساتھ جو ہمارا تعلق ہے وہ ظاہر ہے۔باوجود اس کے کہ وہاں ہمارے آدمیوں کو صرف احمدی ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ہمارا ان کے ساتھ یہ تعلق ہے کہ اگر کوئی حکومت اس پر حملہ کرے تو حضرت مسیح موعود کا ان احمدیوں کے لئے جو اس ملک میں بستے ہیں یہی حکم ہوگا کہ وہ حکومت کابل کی طرف سے لڑیں۔نہ ان کی طرف سے جنہوں نے افغانستان پر حملہ کیا۔اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی حکم ہے۔جو ترکوں کے ماتحت ہیں۔یا اور دوسری حکومتوں کے ماتحت رہتے ہیں۔غرض احمدی تو کسی طرح بھی کسی حکومت کے خلاف نہیں ہو سکتے۔کیونکہ بانی سلسلہ حضرت مسیح موعود کا ہر ایک احمدی کے لئے یہی حکم ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کے ساتھ وفاداری کا برتاؤ کرو۔اور اسی حکم کے مطابق ہم نے خطرناک مقاموں پر گورنمنٹ کی وفاداری کی اور صرف دین کی خاطر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے