خطبات محمود (جلد 11) — Page 144
۱۴۴ سال 1927ء میں امام کی یا خلیفہ کی بات مانوں گا۔کیونکہ وہ بالواسطہ خدا تعالی کا قائم مقام ہے۔لیکن یہ خیال پیدا ہی کیوں کیا جائے کیا ایک سکھ سے حکام وقت یہ پوچھتے ہیں کہ تم اپنے گورو کی بات مانو گے یا ہماری۔وہ ایسا سوال نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب ایک سکھ کے دماغ میں یہ خیال پیدا کر دیا گیا کہ گورو اور حکومت وقت میں ٹکراؤ ہو سکتا ہے تو وہ یہی جواب دے گا کہ میں آپ کی نہیں مانوں گا اپنے گورو کی مانوں گا۔پس ایسا افسر جو اس قسم کے سوال کرے۔در حقیقت خیالات کی ایک ایسی رو چلاتا ہے جو ملک کے امن کو برباد کرنے والی ہے۔وہ ان خیالات کی طرف لوگوں کے افکار کو پھیرتا ہے جن کی طرف پہلے انہیں کوئی توجہ نہ تھی اور لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایسی بات کہیں جو حکومت کے رعب کے خلاف ہو۔ایک دوست اگر اپنے دوست سے یہ سوال کرے کہ اختلاف کی صورت میں تم میری بات مانو گے یا اپنے باپ کی تو اسے ایک ایسا جواب سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے جو اس کے دل کو تکلیف دے گا کیونکہ اس کا سوال ہی ایسا ہے جس کے دو جواب نہیں ہو سکتے۔اور جو جواب اس کا دیا جا سکتا ہے وہ ضرور اس کے دل کو تکلیف دینے والا ہو گا۔کیونکہ کوئی دوست یہ امید نہیں رکھ سکتا کہ اس کا دوست اسے اپنے والد پر ترجیح دے گا۔غرض سوال نہایت بے موقع اور نادرست تھا۔لیکن جو جواب اس کا دیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں جواب یہ دینا چاہئے تھا کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہم کو کس نے سکھائی ہے آخر ہماری وفاداری جسے آپ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں وہ ہمیں حضرت مسیح موعود اور ان کے خلفاء ہی نے سکھائی ہے۔ورنہ ہم بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جو گورنمنٹ کی ایسی وفاداری کے قائل نہیں جس کے ہم ہیں۔اور تعلیم نے ہمارے افکار میں بھی رہی تغیر پیدا کیا ہے۔جو کہ دوسروں کے افکار میں پیدا ہو رہا ہے۔پس اگر آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہمارا امام با وجود وفاداری کا معلم ہونے کے گورنمنٹ کے خلاف حکم دے گا۔تو پھر ہم سے جو شاگرد ہیں کیا امید رکھ سکتے ہو۔اگر سر چشمہ بگڑ سکتا ہے تو پھر ہم بھی بگڑ سکتے ہیں۔گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہماری یہ تعلیم نہیں ہے کہ حکومت وقت کا مقابلہ کرنا چاہئے بلکہ ہمارا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہم رہیں اس کی وفاداری کریں۔اور یہ تعلیم ایسی ہے کہ ہم گورنمنٹ کے ماتحت امن سے رہنے پر مجبور ہیں۔گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔بلکہ جو قربانیاں ہم نے گورنمنٹ برطانیہ کے لئے کی ہیں وہ بہت بڑی ہیں۔جس قدر ہم نے قربانیاں کی ہیں وہ گورنمنٹ کے کسی بڑے سے