خطبات محمود (جلد 11) — Page 143
سال 1927ء ۱۴۳ خطبات محمود کرتا ہوں۔ ہماری جماعت کے چند آدمیوں سے عند الملاقات کہا۔ جب ملک کی ہوا خراب ہو رہی تھی تو آپ لوگوں نے ورتمان کے متعلق اشتہار کیوں شائع کیا۔ کیوں نہ مجھے ورتمان لا کر دیا کہ میں خود کار روائی کرتا۔ (مجھے ان صاحب کے اس قول سے اختلاف ہے کہ گورنمنٹ ایسی تحریرات پر نوٹس لیتی ہے۔ بسا اوقات گورنمنٹ باوجو د توجہ دلانے کے کوئی نوٹس نہیں لیتی۔ اور یہ بات ملک کے امن کو برباد کرنے کا موجب ہو جاتی ہے) جب ان دوستوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ ہمیں قادیان سے ہمارے امام کی طرف سے ہدایت آئی تھی کہ یہ اشتہار شائع کر دیا جائے اس پر ان صاحب نے کہا تو کیا پھر یہ دلچسپ بات گورنمنٹ کے نوٹس میں لاؤں کہ آپ لوگ اپنے امام کی ہدایت کے ماتحت قانون کی خلاف ورزی کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ ہماری جماعت کے آدمیوں نے جواب دیا کہ اگر تو یہ دھمکی ہے تو آپ بے شک ایسا کریں۔ لیکن اس بات سے کہ مرکز سے ایک پوسٹر آیا اور اس کی اشاعت کر دی گئی۔ یہ بات نہیں لازم آتی کہ امام جماعت خود یا ان کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمد یہ قانون شکنی پر آمادہ ہے۔ یہ قول در حقیقت اپنے اندر ایک سوال رکھتا ہے۔ اور وہ سوال یہ ہے سوال یہ ہے کہ کیا جب امام جماعت احمدیہ اور گورنمنٹ کے احکام احکام آپس میں ٹکرا جائیں تو تم پھر بھی امام جماعت احمدیہ کی بات مانو گے ؟ ما میرے نزدیک اس مخفی سوال کا جواب جو کچھ دینا چاہئے تھا وہ ہمارے دوستوں نے نہیں دیا۔ اگر اسی رنگ میں حضرت خلیفہ اول کے وقت میں مجھ سے کوئی افسر سوال کرتا تو میں اسے کہتا کہ احمدی تعلیم کے ماتحت یہ ممکن ہی نہیں کہ سلسلہ احمدیہ کے امام اور گورنمنٹ کے احکام میں اختلاف ہو جائے ۔ لیکن اگر آپ فرض کے طور پر پوچھتے ہی ہیں۔ تو پھر میں یقینا اس کے مقابلہ میں جو دنیوی سلطنت کا قائم مقام ہے اس کی بات مانوں گا جو آسمانی بادشاہت کا قائم مقام ہے۔ اگر کوئی افسر مجھے اس سوال کا جواب دینے پر مجبور کرتا تو بے شک میں یہی جواب دیتا۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ سوال ہی بالکل غلط ہے۔ میری حیثیت جماعت احمدیہ میں امام اور خلیفہ کی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میں دینی امور میں امور میں حکم دینے و دینے والا ہوں۔ اور خلیفہ وہ ہوتا ہے جو نبی کے ماتحت ہے اور نبی کے بعد اس کی جماعت کی دینی طور پر تنظیم ، ترقی اور تعلیم و تربیت کلی طور پر اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ پس اگر کوئی شخص ایک ایسے شخص سے جو اس امام اور خلیفہ کا ماننے والا ہے یہ سوال کرتا ہے کہ تم خدا کے قائم مقام کی بات مانو گے یا ہماری۔ تو وہ غلطی کرتا ہے ۔ کیونکہ سائل کو خود ہی سمجھ لینا چاہئے۔ کہ جو شخص خدا تعالیٰ کو مانتا ہو ۔ وہ ایسے موقع پر یہی کہے گا کہ میں دینی امور