خطبات محمود (جلد 11) — Page 126
خطبات محمود ۱۲۶ سال 1927ء دنیاوی بادشاہوں کے لحاظ سے نہایت اچھا تھا۔مگر اس نے ہندوستان میں بھی اسلام کی اشاعت نہ کی۔اور میں نے ایسے ممالک تک اسلام پہنچا دیا۔جہاں سینکڑوں سالوں سے کلمہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا۔یہ تو اس وقت تک میں نے کر کے دکھایا ہے۔آئندہ خدا چاہے تو اس سے بھی بڑھ کر ہو گا۔تیسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ میں نے مسلمانوں کو ہندوؤں کا بائیکاٹ کرنے کی تعلیم دی ہے۔مگر مجھ پر سراسر ا تمام ہے۔میں بائیکاٹ کے سخت خلاف ہوں۔میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ ہندو کھانے پینے کی چیزیں مسلمانوں سے نہیں خریدتے۔مسلمان بھی ہندوؤں سے وہ چیزیں نہ لیں جو ہندو مسلمانوں سے نہیں لیتے۔ہندوؤں سے ایسی چیزیں خریدنے کی وجہ سے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ہندوؤں کے ہاں جاتا ہے۔جس کے واپس آنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔اور اس وجہ سے مسلمان غریب سے غریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اگر قلیل سے قلیل اندازہ بھی لگایا جائے تو دو تین کروڑ روپیہ مسلمانوں کا سالانہ ایسا ہندوؤں کے ہاں جاتا ہے جو کسی صورت میں واپس نہیں آتا۔اس کے علاوہ بارہ تیرہ کروڑ روپیہ سود میں مسلمانوں کو دینا پڑتا ہے۔سر کار آٹھ کروڑ سالانہ ٹیکس ہندوؤں سکھوں اور مسلمانوں سے لیتی ہے۔گویا اگر سر کار ایک روپیہ فی کس کے حساب سے ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں سے لیتی ہے۔تو ہندو صرف مسلمانوں سے ڈیڑھ دو روپیہ فی کس کے حساب سے وصول کرتے ہیں۔ایسی قوم نے زندہ کیا رہنا ہے۔اب اگر اس قوم کی بے بسی اور بے چارگی کو دیکھ کر میں نے یہ کہا کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں ہندوؤں سے نہ خریدیں جس طرح ہندو ان سے نہیں خریدتے تو گناہ کیا کیا؟ رہا یہ امر کہ ہندوؤں سے بائیکاٹ کیا جائے یعنی ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھا جائے۔یہ میری تعلیم کے خلاف ہے۔ہندو تو پھر بھی خدا کی ہستی کے قائل ہیں میرا تو یہ حکم ہے کہ دہریوں سے بھی تعلق رکھو۔اگر کوئی خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والا ہے تو اس سے بھی تعلق رکھو۔کیونکہ تبلیغ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تعلق ہو۔پس میری ہرگز تعلیم نہیں کہ ہندوؤں کا بائیکاٹ کر دو۔میں نے جو نصیحت کی ہے وہ یہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزیں جو ہندو مسلمانوں سے نہیں لیتے وہ مسلمانوں کو بھی ہندوؤں سے نہیں لینی چاہئیں۔اس طرح مسلمانوں کو کم از کم دو تین کروڑ روپیہ کی سالانہ بچت ہو سکتی ہے اور اگر دوسری ضروریات کی چیزیں بھی خود مسلمان مسلمانوں کے لئے مہیا کریں تو آٹھ دس کروڑ روپیہ کی بچت ہو سکتی ہے۔اور اس طرح مسلمان ہندوؤں کے سودی قرضہ سے بچ سکتے ہیں۔میری یہ تعلیم بھی کوئی نرالی تعلیم نہیں۔ہند و صاحبان خود ہزاروں سالوں سے دوسرے لوگوں