خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 122

خطبات محمود ۱۲۲ سال 1927ء اپنے ہاتھ میں سونٹا لو۔اور جو تمہیں ملے اس کے سر پر دے مارو۔تو پھر مجھ پر اعتراض ہو سکتا ہے۔لیکن چونکہ اس قسم کی کوئی بات میری کسی تقریر و تحریر سے ہر گز ثابت نہیں کی جاسکتی۔اس لئے مجھے پر اعتراض کرنا کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔یہ پہلے اعتراض کا جواب ہے۔دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ میں نے مسلمانوں کو کہا ہے ہندوؤں کو جبرا مسلمان بناؤ۔مگر یہ صحیح نہیں۔پہلی بات تو درست تھی مگر اس پر اعتراض غلط تھا۔لیکن یہ بات ہی غلط ہے۔میں جب سے پیدا ہوا ہوں۔ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی اس بات کا قائل نہیں ہوا کہ مذہب میں جبر کو بھی کوئی دخل ہو سکتا ہے۔بلکہ میں نے ہمیشہ اعلان کیا کہ مسلمان ایسے اخلاق بنا ئیں جن میں جبر کا شائبہ بھی نہ پایا جائے۔اور جن کی اسلام تعلیم دیتا ہے۔میرے نزدیک ماں باپ یا استاد کو ان بچوں پر جو ان کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔جبر کرنے کا حق ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیتے ہیں۔لیکن ان کے علاوہ کسی اور کو قطعا کسی پر جبر کا حق نہیں ہے۔ہر شخص اپنی رائے میں آزاد ہے۔اعمال میں بعض اوقات جبر ہوتا ہے۔مثلاً حکومت جبر کرتی ہے۔یا امام وقت اپنے پیروؤں پر اعمال کے متعلق جبر کرنے کا حق رکھتا ہے۔لیکن یہ حق اپنی پارٹی اور اپنی جماعت پر ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ دوسروں پر جبر کیا جائے۔چونکہ امام اپنے لوگوں کے برے کاموں سے بد نام ہوتا ہے۔اور ان کے نیک کاموں سے اس کی بھی نیک نامی ہوتی ہے۔اس لئے اسے اختیار ہوتا ہے کہ اپنے لوگوں کے اعمال کی نگرانی کرے۔احمدی ان لوگوں سے جو احمدی کہلاتے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر کام کرو۔اور ہمارے اعمال کی طرح اپنے اعمال بناؤ۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ غیر مبایعین وہی کچھ کریں جو مبایع کرتے ہیں۔یا شیعہ سنی وہابی وہی کریں جو ہم کرتے ہیں۔پس میں نے ہمیشہ جبر کی تعلیم کے خلاف تعلیم دی ہے۔اور کوئی میری کتابوں ، میرے اشتہاروں، میرے خطبوں ، میری گفتگو سے ایک سطر بھی ایسی نہیں دکھا سکتا جس میں میں نے جبر کرنے کے لئے کہا ہو۔یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے مسلمانوں سے کہا ہے وہ جبرا ہندوؤں کو مسلمان بنا ئیں۔لیکن یہ بے شک میں نے کہا ہے کہ تبلیغ کے ذریعہ سارے ہندوستان کو مسلمان بنانے کی کوشش کرو۔اگر یہ کہنے سے فتنہ پڑتا ہے۔تو شردھانند کو بھی فتنہ باز کہنا چاہئے۔مگر عجیب بات ہے۔ایک طرف تو ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ شہید ہیں کیونکہ شدھی کا جو حق تھا اس کے لئے مارے گئے ہیں۔لیکن دوسری طرف میرے متعلق جو تبلیغ کو اپنا سب سے بڑا فرض سمجھتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ میں نے جو ہندوؤں کو مسلمان بنانے کی تعلیم دی ہے یہ فساد کی تعلیم ہے۔دیکھو ہندو سینکڑوں نہیں ہزاروں