خطبات محمود (جلد 11) — Page 117
خطبات محمود سال 1927ء 114 رو اخبار ”ہندو ہیرلڈ کے ایک مضمون کا جواب (فرموده ۲۷ / مئی ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے دنوں میں جو خطبات موجودہ زمانہ کے فتنہ کے متعلق دیئے ہیں یا جو اشتہارات وغیرہ شائع کئے ہیں۔ ان کے متعلق اہل ہنود میں سے بعض کو یا تو غلط فہمی ہوئی ہے یا انہوں نے سروں کو کو غلط فہمی میں ڈالنا چاہا ہے۔ بہر حال کچھ بھی ہو مجھے ”ہندو ہیرلڈ" کی جو لاہور کا ایک انگریزی پرچہ ہے ایک کاپی خاص طور پر یا تو اخبار والوں نے خود بھیجی ہے یا کسی اور نے اس کا مضمون پڑھ کر بھجوائی ہے۔ اس میں ایک مضمون میرے ان امور کے متعلق لکھا گیا ہے جن کا ذکر میرے خطبات یا اشتہارات میں آیا ہے۔ اور ان کے خلاف اعتراض کئے گئے ہیں۔ آج میں خطبہ کے ذریعہ ان اعتراضات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ مضمون نگار لکھتا ہے آج کل تمام لیڈرا من امن اور صلح صلح پکار رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی عملی طور پر امن قائم کرنے کے لئے قدم نہیں اٹھاتا۔ اور سوائے باتوں کے کوئی کام نہیں کرتا۔ اس کے بعد میرے متعلق مضمون نگار نے لکھا ہے ۔ مجھے خیال تھا کہ ان کو کسی قدر عقل سلیم سے حصہ ملا ہے اور وہ کسی حد تک معقول بات کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے تازہ مضامین پڑھنے کے بعد میری امید اور حسن ظنی مایوسی اور بد ظنی سے بدل گئی ہے۔ اس بات کے ثبوت میں مضمون نگار نے میری تحریروں اور تقریروں سے تین باتیں خصوصیت سے چٹنی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ اپنے ہاتھ میں سونٹار کھیں ۔ دوسری یہ کہ میں نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ تمام ہندوؤں میں اسلام کی تبلیغ جبر سے کریں اور سب کو مسلمان بنانے کی کوشش کریں ۔ اور تیسری یہ کہ مسلمان ہندوؤں کا پوری