خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 105

*1927 ۱۰۵ خطبات محمود کوئی اسلامی ملک اس کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ایران اور افغانستان کی آبادی مل کر چند کرو ڑ بنتی ہے اور وہ ۳۳ کروڑ آبادی کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہے۔غرض ہندوؤں کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کر کے مسلمانوں سے پرانا بدلہ لیں کہ اگر مسلمانوں نے ہندوستان میں آکر حکومت کی تھی تو ہم نے بھی بزور تلوار مکہ اور مدینہ کو فتح کر لیا۔اب غور کرو اول تو یہی بات ہر ایک مسلمان کے بدن پر رعشہ پیدا کر دینے والی ہے کہ لے کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیا جائے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ایک قیامت ہے جو مسلمانوں کے لئے برپا ہو گی۔لیکن اگر یہی ہو تا تو بھی بڑے فکر اور اندیشہ کی بات تھی۔مگر اس پر بس نہیں بلکہ ہندوؤں کا یہ منشاء ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کے بعد عرب پر حملہ کیا جائے۔اور مکہ کو جو توحید کا مرکز ہے بتوں کا مندر بنا دیا جائے۔پس اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی حفاظت کا ہی سوال نہیں بلکہ اسلام کی حفاظت کا سوال ہے۔اگر واقع میں اس قسم کی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے کہ ہر طرف ہندو ہی ہندو۔ہوں اور کوئی مسلمان ہندوستان میں نہ رہے۔تو پھر کسی مسلمان حکومت کے لئے بھی کوئی ٹھکانا نہیں۔لیکن اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا عصر مضبوط ہو جو ہندوؤں کو من مانی کار روائیاں نہ کرنے دے تو ہندوؤں کو بھی یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ اگر ہم نے کسی اسلامی ملک پر حملہ کیا تو ہم بھی امن سے نہیں رہ سکیں گے۔اس وجہ سے ہندو کسی بیرونی اسلامی ملک پر حملہ کرنے کا خیال بھی نہیں کر سکتے۔یہ مسئلہ ہے جس پر اس وقت مسلمانوں کو غور کرنا ہے۔دیکھو اگر ایک زمیندار کی بٹ کا سوال ہو۔تو اس کے لئے کس قدر فریقین جوش دکھاتے ہیں۔مگر آج تو یہ سوال در پیش ہے کہ ہندو مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں۔اب تم نہیں یا ہم نہیں ، پھر اگر ایک کنال زمین کا جھگڑا ہو۔تو زمیندار اپنے بچوں کو لے کر لٹھ لئے جا کھڑا ہوتا ہے۔اور کہتا ہے آج ہم مر جائیں گے یا اپنے دشمنوں کو مار دیں گے۔مگر جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ کسی کھیت کا سوال نہیں۔کسی گاؤں کا سوال نہیں کسی کا سوال نہیں۔کسی صوبہ کا سوال نہیں۔کسی ملک کا سوال نہیں۔بلکہ ساری دنیا کا بھی سوال نہیں۔دنیا کی اس زندگی اور اگلی زندگی کا سوال ہے اور وہ یہ کہ اسلام قائم رہے گا یا نہیں۔ایک بہت بڑی قوم اسلام پر حملہ آور ہے۔جو روز بروز اپنے خطرناک ارادوں کو ظاہر کر رہی ہے۔اور ہر روز اس کے ارادے خطرناک ہو رہے ہیں۔وہ اس ارادہ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے کہ ملک کی پہلی حالت کو بدل کر ایسی حکومت قائم کرے جو اسلامی حکومتوں کو مٹادے۔اور کوئی مسلمان دنیا میں باقی نہ چھوڑے۔کیونکہ کون خیال کر سکتا ہے کہ ادم کا جھنڈا مکہ پر گاڑا جائے۔در آں حالیکہ کوئی اسلامی