خطبات محمود (جلد 11) — Page 92
خطبات محمود ٩٢٠ سال 1927ء اگر بند رکھیں تو جس طرح انجن چلتا ہے اور سینکڑوں من بوجھ کھینچ کر لے جاتا ہے۔اس طرح مسلمان بھی کوئی قابل ذکر کام کر سکیں۔اگر ان مصائب پر جو انہیں پیش آرہے ہیں۔مسلمان جوش نہ دکھا ئیں صبر سے کام لیں۔فور ابد لالینے کی طرف نہ جھک جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اصلی کام کرنے کی طرف ان کو توجہ پیدا ہوگی اور ان کے دماغوں میں جو سٹیم ہوگی وہ انہیں کام دے گی۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں مسلمان اپنے دماغی انجن کے Valve کو کھول دیتے ہیں اور سٹیم نکل جاتی ہے۔مثلاً اب ہی جو فساد ہوا ہے۔اس میں مسلمان اگر ہندو اور سکھوں کے ظلم کا جواب دے لیں۔تو پھر گھروں میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ رہیں گے۔اور کہیں گے ہم نے بھی بدلا لے لیا۔اس طرح ان کے دل ٹھنڈے ہو جائیں گے۔لیکن اگر مسلمان بدلا نہیں لیں گے بلکہ یہ کوشش کریں گے کہ ہم ایک بھی ہندو کو ہند دیا ایک بھی سکھ کو سکھ نہ رہنے دیں گے۔اور انہیں مسلمان بنالیں گے۔تو یہ ان کے اندر ایک سٹیم ہوگی۔جو ترقی کی طرف انہیں لے جائے گی اس طرح غصے فرد نہیں ہوں گے۔بلکہ بڑھتے رہیں گے۔پس ایسے موقعوں پر جوش کو دبانا مضر نہیں بلکہ مفید ہوتا ہے۔وہ لوگ جو اپنے جو شوں کو دبا لیتے ہیں۔اور نا جائز کارروائی سے پر ہیز کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کے اندر ایسی آگ لگی رہتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔اور ایسی جلن ان کے دلوں میں رہتی ہے کہ وہ ایک لمحہ غافل نہیں ہو سکتے۔لیکن جن کے جوش نکل جاتے ہیں۔ان کے ارادے بھی بے نتیجہ رہ جاتے ہیں۔جن کے سینوں میں آگ دبی ہوئی ہو۔ہمیشہ وہی ہو شیار اور خوش رہتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کو چاہئے۔ان مظالم کا جواب بجائے ہاتھ سے دینے کے زبان سے دیں ، دلائل سے دیں ، فعل سے دیں اور وہ اس بات کی کوشش کریں کہ ان لوگوں کو تبلیغ کی جائے۔اور انہیں مسلمان بنایا جائے۔رسول کریم اے کے خلاف جس قدر مظالم بڑھتے گئے آپ تبلیغ پر زیادہ زور دیتے گئے۔اسی طرح اب مسلمانوں کو بھی اس پر زور دینا چاہئے۔دیکھو خود رسول کریم اے کو دشمنوں نے کس قدر تکالیف دیں۔آپ کے آدمی مارے گئے۔کیسے کیسے عالی شان صحابہ اور مخلص صحابیات قتل کی گئیں مگر رسول کریم ﷺ نے اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا۔جب صحابہ اور صحابیات کو مارا گیا۔رسول کریم ان بھی یہی کر سکتے تھے جواب مسلمان کر رہے ہیں۔مگر آپ نے یہ نہیں کیا بلکہ تبلیغ پر اور زیادہ زور دیا۔اور اتنا زور دیا کہ وہ جو آپ کو پتھر مارنے والے تھے۔وہ آپ کے دست راست بن گئے۔اور تبلیغ کے کام میں ہاتھ بٹانے والے ہو گئے اس وقت بھی مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ کھلا ہے۔اور وہ یہ کہ تبلیغ پر زور ہو۔