خطبات محمود (جلد 11) — Page 67
خطبات محمود 44 سال 1927ء نہیں مٹا تا بلکہ نیکی کو مٹاتا ہے (المائدہ:۵) تو بہادری ایسا فعل ہے جو خدا کے نزدیک بھی اور اس کے بندوں میں بھی مقبول چلا آتا ہے اور جو لوگ اپنے یقین کے مطابق اسے کرتے ہیں وہ عزت پا جاتے ہیں۔دشمنوں کی بھی ایسی باتیں پسند آتی ہیں۔در حقیقت ایسا شخص جو ایک بات کو سچا سمجھ کر پھر اس پر عمل نہیں کرتا اور اسے قبول نہیں کرتا وہ بزدل ہے۔آج اس جگہ پر ہمارے دوست دور دراز مقامات سے تشریف لائے ہیں۔اور جمعہ کی نماز کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ مجلس شورٹی ہوگی اس لئے میں نے یہ خطبہ پڑھا۔اگر وہ اپنے ادنی ادنی کاموں میں بھی خوبصورتی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہر کام میں جرآت دلیری اور بہادری دکھا ئیں۔ان کے سب کام چونکہ خدا تعالیٰ کے لئے ہوتے ہیں اس لئے وہ سب خوبصورت بن جائیں گے۔اگر ہم یہ نہ کر سکتے تو ہمارے لئے پھر کوئی خوبصورتی نہیں۔ہم اگر آسمان پر بھی چڑھ جائیں۔اور کہیں کہ مسیح موعود آگئے۔تو کوئی قبول نہ کرے گا۔دنیا میں ہماری قربانی اور جرات سے ہی تبدیلی پیدا ہو گی۔پس ہمیں ہر قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔جب ہماری یہ حالت ہوگی تو دنیا خود ہماری خوشبو سونگھے گی۔دنیا خود ہمارے پاس آئے گی۔دنیا خود ہم کو قبول کرے گی۔پس میں اس موقع پر تشریف لانے والے دوستوں سے کہتا ہوں۔وہ مجلس میں جب جائیں تو اپنی آراء اپنے ارادوں اور اپنے خیالات اور اپنی خواہشات کو خدا تعالیٰ کی رضاء کے ماتحت کریں۔اور کچی جرات کے ساتھ ان کا اظہار کریں۔تاوہ احمدیت کے پھیلانے کے لئے ایسے کام کر سکیں جو کچی بہادری کے ہیں۔اور وہ اپنی بہادری اور جرات سے آنے والوں کے لئے ایسا رستہ کھول سکیں جو ان کو اصل منزل تک پہنچا سکے۔پس کچی بہادری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور اپنی آراء کو جرات کے ساتھ ظاہر کریں۔تا جو اصل مطلب ہے۔وہ حاصل ہو سکے۔اور احمدیت پورے زور کے ساتھ دنیا میں پھیل سکے۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں نفاق نہ ہو بزدلی نہ ہو ہم سچائی پر قائم رہیں۔خدا کے سوا کسی اور کا ڈر نہ رہے۔اور اللہ کے سوا کسی اور کی آرزو اور خواہش نہ ہو۔اور خدا تعالیٰ ہمیں سچائی کے پھیلانے والا بنائے اور سچائی کے پھیلانے کے لئے آپ ہمیں راستے بتائے اور ان راستوں پر چلائے۔آمین۔الفضل ۲۶ / اپریل ۱۹۲۷ء)