خطبات محمود (جلد 11) — Page 545
محمود ۵۴۵ سال 1927ء مہمان آیا۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تھے اور مہمان آپ سے ملتے تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے نبیوں سے ان کے متبعین کو خاص محبت اور اخلاص ہوتا ہے اور انہیں نبی کو دیکھ کر اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور وہ کسی اور بات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے مفتی محمد صادق صاحب کی روایت ہے۔جلسہ کے ایام میں ایک دفعہ جب حضرت صاحب باہر نکلے تو آپ کے ارد گرد بہت بڑا ہجوم ہو گیا۔اس ہجوم میں ایک شخص نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور وہاں سے باہر نکل کر اپنے ساتھی سے پوچھا تم نے مصافحہ کیا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا اتنی بھیٹر میں کہاں جگہ مل سکتی ہے ؟ اس نے کہا جس طرح ہو سکے مصافحہ کر۔خواہ تمہارے بدن کی ہڈی ہڈی کیوں نہ جدا ہو جاوے یہ مواقع روز روز نہیں ملا کرتے۔چنانچہ وہ گیا اور مصافحہ کر آیا۔غرض نبی کو دیکھ کر انسان کے دل میں ایک خاص قسم کا جوش موجزن ہوتا ہے۔اور وہ جوش اتنا وسیع ہوتا ہے کہ نبی کے خدمت گاروں کو دیکھ کر بھی اہل پڑتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تو لوگ آپ کے قریب بیٹھنے کے لئے دوڑ پڑتے۔گو اس وقت تھوڑے ہی لوگ ہوتے تھے تاہم ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ میں سب سے قریب بیٹھوں۔اس شخص کے مقدر میں چونکہ ابتلا تھا اس لئے اسے خیال نہ آیا کہ میں کس شخص کی مجلس میں آیا ہوں۔اس نے سنتیں پڑھنی شروع کیں اور اتنی لمبی کر دیں کہ پہلے تو کچھ عرصہ لوگ اس کا انتظار کرتے رہے۔مگر جب انتظار کرنے والوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ ہم سے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور قریب کی جگہ حاصل کر رہے ہیں تو وہ بھی جلدی سے آگے بڑھ کے حضرت صاحب کے پاس جا بیٹھے۔مگر ان کے جلدی کے ساتھ گزرنے سے کسی کی کہنی اسے لگ گئی۔اس پر وہ سخت ناراض ہو کر کہنے لگا اچھا نبی اور مسیح موعود ہے کہ اس کی مجلس کے لوگ نماز پڑھنے والوں کو ٹھوکریں مارتے ہیں۔اتنی سی بات پر وہ مرتد ہو کر چلا گیا۔گویا جو چیز ایمان کی ترقی کا باعث ہے اور اب بھی ہو سکتی ہے وہ اس کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو گئی۔اور اس کی مثال اس جماعت کی سی ہو گئی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب روشنی ہوئی تو ان کا نور جاتا رہا۔آپ لوگ جو ان دنوں قادیان آئے ہیں ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت ہجوم اور کام کرنے والوں کی قلت کی وجہ سے آپ لوگوں کو بہت سی تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں۔جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے جلسہ کے قریب میرے خطبے جو اخبار میں چھپتے ہیں ان میں یہاں کے لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ پوری کوشش اور سعی سے مہمان نوازی کریں۔اور وہ حتی الامکان بہت