خطبات محمود (جلد 11) — Page 544
خطبات محمود ۵۴۴ سال 1927ء طرف بھاگی بھاگی پھرے گی اور بچہ دوسری طرف۔باپ ایک طرف پریشان اور سرگردان ہو گا تو بیٹا دوسری طرف خاوند ایک طرف مارا مارا پھرے گا تو بیوی دوسری طرف۔گویا ان کی آپس کی محبت ٹوٹ جائے گی اور ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔مگر اس وقت لوگ نبیوں سے بھاگیں گے نہیں۔بلکہ ان کے پاس دوڑے دوڑے جائیں گے اور کہیں گے کہ خدا تعالی کے حضور ہماری سفارش کرو تاکہ ہم بچ جائیں۔تو اس دن جہاں لوگ دوسرے عزیز سے عزیز رشتہ داروں اور پیارے سے پیارے تعلق رکھنے والوں اور معزر سے معزز لیڈروں سے بھاگیں گے اور نہ صرف بھاگیں گے بلکہ ان میں سے بعض سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے وہاں نبیوں کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ سے سفارش کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ وقت جب کہ تمام تعلقات قطع ہو جائیں گے اس وقت اگر کوئی تعلق قطع نہیں ہو گا تو وہ نبیوں کا تعلق ہو۔گا جو اور مضبوط ہو گا۔تو حقیقی خلوص اور اصلی محبت انبیاء سے ہی ہو سکتی ہے۔اور وہ خداتعالی ہی کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہے۔پس ہم اللہ تعالی کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے کرم اپنے فضل اپنے رحم اور عنائت سے ہم میں یہی محبت پیدا کر دی ہے اور ہمیں ہدایت کے اس چشمہ پر پہنچا دیا ہے جو پیاسی اور مضطر دنیا کو سیراب کرنے کے لئے اس زمانہ میں اس نے خود پھاڑا ہے ورنہ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے دنیا اور اس کے تمام سازو سامان ہم میں کبھی یہ محبت اور اخلاص پیدا نہیں کر سکتے تھے۔جلسہ پر آنے والوں کو نصیحت خدا تعالی کے اس شکر کے بعد میں ان تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہوئے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر اس چیز کے ساتھ جو خوشی کا موجب ہوتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے۔اور جہاں پھول پائے جاتے ہیں وہاں خار بھی ہوتے ہیں۔اس طرح ترقی کے ساتھ حسد بغض اور اقبال کے ساتھ زوال لگا ہوتا ہے۔غرض ہر چیز جو اچھی اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے راستہ میں کچھ مخالف طاقتیں بھی ہوا کرتی ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اس بات کا مستحق ہی نہیں کہ اسے کامیابی حاصل ہو جب تک وہ مصائب اور تکالیف کو برداشت نہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔کبھی تو ان پر ایسے ایسے ابتلا آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمان والے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں۔اور کبھی چھوٹی چھوٹی تکالیف پیش آتی ہیں مگر بعض کمزور ایمان والے ان سے بھی ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ پشاور سے ایک