خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 526

۵۲۶ سال ۱۹۲۸ء خطبات محمود چاہئے اور تھوڑے روپیہ میں زیادہ کام کرنا چاہئے۔جماعت کے دوستوں کو بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ گو کام کرنے والوں نے ان سے مدد نہیں مانگی مگر پھر بھی ان کے ذہن میں اگر کوئی مفید تجویز ہو جس سے اخراجات میں تخفیف ہو سکے تو اسے پیش کریں۔میں نے اس کے لئے پچھلے سال ایک کمیٹی بنائی تھی مگر باوجود اس کے اخراجات میں کمی نہیں ہوئی اس لئے اگر کوئی ایسے دوست ہوں جو کوئی ایسی تجویز بتا سکیں جس سے اخراجات میں کمی ہو سکے تو انہیں خود چاہئے کہ اپنی باتوں کو زور سے پیش کریں۔اگر ان کی تجویز درست ہوئی تو انہیں ثواب بھی ہوگا اور سلسلہ کو فائدہ بھی پہنچے گا۔اور اگر ان کی تجویز نہ مانی گئی تو ان کو ثواب ضرور ہو جائے گا اور اگر وہ درست ہے اور پھر کوئی اسے نیک نیتی سے رد کرتا ہے تو بھی دونوں کو ثواب ہو گا اور اگر کوئی جان بوجھ کر اسے رد کرے گا تو اس صورت میں بھی ان کو ثواب پہنچے گا اور جان بوجھ کر رد کرنے والے کو گناہ ہو گا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ ایسے کاموں میں شرمایا نہ کریں۔لوگ کہتے ہیں کہ ہماری مانی نہیں جاتی حالانکہ مشورہ دینے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔کئی ایسے ظالم باپ ہوتے ہیں کہ بچوں کی تربیت و تعلیم کے متعلق ماں کی رائے کبھی نہیں سنتے مگر باوجود اس کے ماں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے کبھی باز نہیں رہتی۔تو ماننے یا نہ ماننے کے سوال کا اخلاص میں کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ سوچنا چاہئے کہ ہمارا اپنا کام ہے ہم ضرور دخل دیں گے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ کسی کے ذہن میں اگر کوئی مفید تجویز آئے تو ضرور پیش کریں اس کے علاوہ بعض کام جو مقامی جماعت نے ہی کرنے ہیں ان کی طرف بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔مثلاً مکانات مہیا کرنا یا مہمانوں کی خدمت کرنا یا چندہ کی تحریک جب بھی ہو اس میں خصوصیت سے لینا چاہئے کیونکہ وہ میزبان ہیں۔مہمان نوازی کے اخراجات چونکہ یہاں کے لوگ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے باہر سے امداد لی جاتی ہے ورنہ اخلاقی طور پر مہمان نوازی ان کا حصہ ہی فرض ہے۔باہر سے چند ایک خطوط اس قسم کے بھی موصول ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بغیر تحریک کے چندہ میں حصہ لے رہے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہے کہ اس سال ریل کی وجہ سے زیادہ لوگ آئیں گے اور ایک جماعت نے تو اس سال پچاس فیصدی زیادہ چندہ دیا ہے۔پس میں یہاں کی جماعت کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ چندہ میں دوسری جماعتوں سے زیادہ حصہ لے اور میں امید کرتا ہوں کہ ناظر اور کارکن اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف