خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 514

خطبات محمود ۵۱۴ سال ۶۱۹۴۸ خدا تعالی کی طرف ہو جاتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ خدا تعالٰی تک پہنچ بھی گیا ہے۔اگر وہ قدم اٹھاتا جائے گا اور کوشش کرے گا تب خدا تعالی تک پہنچے گا۔یہ عام مومن کی حالت ہوتی ہے۔یعنی وہ ارتقاء کے اصل کے ماتحت ترقی کرتا ہے لیکن صدیق کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس میں فوری تغیر ہوتا ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ جب کوئی جماعت ایمان لاتی ہے تو وہ ساری کی ساری یک لخت ارتقاء میں بڑھ جاتی ہے غلط ہے۔جماعت ارتقاء میں آہستہ آہستہ ترقی کیا کرتی ہے۔اور وہ جماعت جس کی مخالفت اگر اس زمانہ سے پہلے دور ہو جائے جب اس کے اخلاق کی تربیت ہو چکی ہو تو اس کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں اور اخلاقی طور پر پوری ترقی نہیں کر سکتی۔پس ضروری ہے کہ وہ لوگ جو ارتقاء کے قانون کے ماتحت اخلاقی ترقی کرنے والے ہیں جس قدر عرصہ ان کے لئے ضروری ہے اس میں ان کی مخالفت قائم رہے۔اور کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات مخالفت کا ہونا عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہوتی ہے اور اس کا منا اخلاق اور تربیت کو برباد کر دیتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ ہماری جماعت مخالفتوں سے گھبرائے اسے خوش ہونا چاہئے کہ خدا تعالٰی نے اس کی ترقی کے سامان مہیا کئے ہیں۔اور ایسے ذرائع مخالفتوں کو مٹانے کے لئے اختیار نہیں کرنے چاہئیں جو سختی کا پہلو رکھتے ہوں۔اخلاق کی درستی کے لئے مبر جیسی عظیم الشان درس گاہ اور کوئی نہیں۔خدا تعالی کی خاص قدرت کا تو اور حال ہے مگر انسانی تدابیر میں سے صبر بہت مفید چیز ہے۔جو ہر قسم کے اخلاق میں اصلاح پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن سے دشمن کا دل موہ لیا جا سکتا ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر تکلیف اور مخالفت کے وقت صبر سے کام لینا سیکھیں۔جلدی جوش میں نہ آجایا کریں۔کیا کوئی خلاف منشاء بات دیکھ کر اس لئے انہیں جوش آجاتا ہے کہ وہ زیادہ ہو گئے ہیں اور قوت کیساتھ مخالفت کو مٹا سکتے ہیں۔جس غرض کے لئے وہ کھڑے ہوئے ہیں اس کے لحاظ سے تو ان کی تعداد کچھ بھی نہیں ہے۔ہم دنیا فتح کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں کیا اس کے لئے ہماری کثرت کافی ہو گئی ہے۔یاد رکھو جب تک ہم دنیا میں کم از کم سو میں دس احمدی نہیں ہو جاتے اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔جس کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔اگر کسی کو مخالفت کے مقابلہ میں جوش آتا ہے تو معلوم ہوا وہ سمجھتا ہے اس نے کام کر لیا اور اسے اطمینان حاصل ہو گیا۔حالانکہ ہم تو ابھی منزل مقصود کے ابتدائی حصوں تک بھی نہیں پہنچے کجا یہ کہ انتہائی درجے حاصل کر چکے ہوں۔میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ صبر اور استقلال کے ساتھ