خطبات محمود (جلد 11) — Page 495
خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۲۸ء غیر مبائعین کے حملوں کو ان کی نسبت کم برداشت کیا اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے مجھے پر جو حملے کئے ان سے زیادہ میری طرف سے ان پر کئے گئے۔ایسا کمیشن کوئی بیٹھے یا نہ بیٹھے بہر حال انہیں معلوم ہو گیا کہ حملہ کرنا بہت آسان ہے لیکن حملہ کر کے اس کا خمیازہ بھگتنا آسان نہیں۔انہیں پتہ لگ گیا کہ جن پر حملہ کیا جائے وہ بھی جواب دے سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں بھی قلم ہے اور بہت مضبوط قلم ہے۔اس پر معادہ فریق جس کے نزدیک معاہدہ کی پابندی کوئی حقیقت نہ رکھتی تھی، جس نے خدمت اسلام کا کوئی خیال نہ کیا تھا، جس نے رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار کے لئے جلسوں کو روکنے میں پورا زور لگایا تھا اور پھر جس نے نہایت کامیاب جلسوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا تھا ایک اور رنگ اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہی پیغام جو کہتا تھا کہ ۱۷ جون کے جلسوں میں مسلمانوں کو شریک نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی تحریک کرنے والے رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین نہیں مانتے اپنے خاتم النبیین نمبر میں ایک عیسائی کا مضمون شائع کرتا ہے جس میں لکھا ہے۔آپ کا اسلام اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ آبائی ملت اور یہودیت کے مقابل مسیحیت کی تائید و تصدیق ہی تھا اس وجہ سے ہم مسیحی حضرت محمد مکی و مدنی کو مسیحیت کا مصدق یقین کرتے ہیں۔مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نے جو تعلیم دی وہ مسیحیت سے چڑائی ہوئی تھی۔ان الفاظ میں دیکھو کس طرح رسول کریم ﷺ پر نعوذ باللہ عیسائی ہونے اور عیسائیت کی تعلیم چرانے کا الزام لگایا گیا ہے۔مگر کیا کوئی ذلیل سے ذلیل دشمن بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم رسول کریم کی جو تعریف کرتے وہ اس سے بھی ادنی اور گری ہوئی ہوتی۔مگر اس عیسائی نے رسول کریم ﷺ کی ذات بابرکات پر جو حملہ کیا وہ تو اس قابل تھا کہ اسے "پیغام صلح" شائع کرنے اور ایک لفظ بھی اس کے خلاف نہ لکھے لیکن ہم نے تمام ہندوستان میں سے جون کے جلسے جو رسول کریم ﷺ کی تعریف و توصیف میں کئے وہ اس قابل نہ تھے کہ کوئی مسلمان ان میں شامل ہوتا۔پس یہ سب باتیں انہوں نے ہمارے خلاف کیں اور ان کے کرنے میں قطعا نہ ہچکچائے۔مگر جب ان کو جواب دیا جانے لگا تو معا یاد آگیا کہ انسان کو اچھے اخلاق رکھنے چاہئیں اور تہذیب اور متانت کے دائرہ کے اندر رہ کر دوسروں کے متعلق لکھنا چاہئے۔یہ ان کی ایسی ہی مثال ہے