خطبات محمود (جلد 11) — Page 482
خطبات محمود ۴۸۴ سال ۶۱۹۲۸ شک کریں لیکن ہمیں نہیں چاہئے کہ با عفت عورتوں پر کوئی حملہ کریں۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی بیٹی یا مولوی محمد علی صاحب کی سالی ہونے کی وجہ سے کسی ایسی عورت پر جسے خدا تعالی با عصمت کہتا ہے کوئی حملہ نہیں جاسکتا۔اور اگر مضمون نویس کا منشاء یہی تھا تو میں اسے نصیحت کروں گا کہ توبہ کرو ہمیں ہرگز کوئی حق نہیں کہ جس نے ہم پر کوئی حملہ نہیں کیا اس پر حملہ کریں۔ہاں سوال کے طور پر یہ لکھا جا سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کا یہ فتویٰ ہے اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب یہ کہتے ہیں اس صورت میں ان پر کیا فتویٰ چسپاں ہوتا ہے لیکن واقعہ کی صورت میں اسے تبدیل کر دینا ٹھیک نہیں۔یہ کہنا کہ فلاں چونکہ یہ فتویٰ دیتا ہے اس لئے نفس پرستی کرتا ہے ناجائز ہے۔کیونکہ اس میں بعض ایسی عورتوں پر حملہ ہے جن کا کوئی گناہ ہم پر ثابت نہیں۔اگر وہ لوگ بغض میں انتہائی درجہ پر بھی پہنچ جائیں پھر بھی ہم ان کی مستورات کو عقیقہ ہی سمجھیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو عقیقہ کہتا ہے۔پس میں کہوں گا کہ عورت کی عزت کی حفاظت خواہ وہ دشمن کی ہو انسانیت کا ادنی فرض ہے اور بہادر آدمی کا کام ہے کہ کسی ادنی درجہ کی عورت کی عزت کی حفاظت کے لئے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہو اگر اسے جان بھی دینی پڑے تو قطعا دریغ نہ کرے۔پس تم بہادر بنو اور عورت کی عزت کی حفاظت کرو۔عورت کی عزت کو خدا نے قائم کیا ہے اور وہ شعائر اللہ میں سے ہے اس لئے اس کی عزت تم پر فرض ہے۔میں ان مجبوریوں سے بخوبی آگاہ ہوں جن سے آپ لوگوں کو گذرنا پڑتا ہے اور ان لوگوں کو ایمان سے خالی سمجھتا ہوں جو بے غیرتی دکھاتے ہیں اور دشمن کے اعتراضات اور الزامات سن کر باوجود جواب دینے کی طاقت اور قابلیت رکھنے کے خاموش ہو جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں جانے دو ان باتوں کے جواب نہیں دینے چاہئیں۔وہ ہم میں سے نہیں اور وہ خدا کی رضاء کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔لیکن پھر بھی میں ہر اس شخص کو جو مقابلہ کے لئے زبان یا قلم اٹھاتا ہے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسے رنگ میں لکھے جو بے شک تیز ہو موثر ہو لیکن اس میں کسی ناکردہ گناہ پر کوئی حملہ نہ ہو۔ہم تقویٰ کے قیام کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں۔پس کوشش کرو کہ ہم جب دنیا کو چھوڑ کر جائیں تو دشمن بھی محسوس کرے کہ ہم دنیا میں اصلاح کر گئے ہیں۔میں ایک طرف جہاں ان غافل لوگوں کو جن کی غفلت بے غیرتی کی حد تک پہنچی ہوئی ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس میدان میں پیٹھ پھیر کر کھڑے نہ رہیں اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق