خطبات محمود (جلد 11) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۲۱۹۲۸ جسے دیکھ کر وہ فیصلہ کریں کہ اصولی بحث کرنے سے کیا مطلب تھا اور کس نے اس کے مطابق کام کیا اور کس نے ذاتیات پر حملے کئے۔یہ اصحاب دو طریق پر تحقیقات کریں ایک یہ کہ میری اور مولوی محمد علی صاحب کی تحریروں اور تقریروں کو دیکھیں اور دوسرے جماعت کے دوسرے لوگوں کی تحریروں کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کس نے ابتداء کی اور کس کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی۔اگر یہ کمیٹی میرے متعلق فیصلہ کر دے کہ میری طرف سے زیادتی ہوئی نہ کہ مولوی صاحب کی طرف سے تو آپ لوگ گواہ رہیں اور اگر میں اس بات پر قائم نہ رہوں تو جھوٹا سمجھا جاؤں کہ میں علی الاعلان معافی مانگوں گا۔اور اگر یہ فیصلہ کرے کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے زیادتی ہوئی تو وہ اقرار کریں کہ معافی مانگیں گے۔اسی طرح جماعتوں کے متعلق ہوگا۔اگر یہ فیصلہ ہو کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے معاہدہ تو ڑا تو جن اخبارات نے تو ڑا ہوگا وہ معافی مانگیں گے۔یعنی اگر ثابت ہو جائے کہ الفضل نے اس معاہدہ کو توڑا تو الفضل معافی کا اعلان کرے گا اور اگر یہ ثابت ہو کہ پیغام صلح نے توڑا تو پیغام صلح معافی مانگے گا۔اور اگر کسی فرد کی طرف سے معاہدہ کا تو ڑنا ثابت ہوا تو اس سے معافی کا اعلان کرایا جائے گا۔پس ان چار آدمیوں کی کمیٹی بیٹھ جائے ان کے سامنے سارا معاملہ رکھ دیا جائے لیکن اگر مولوی محمد علی صاحب کو یہ چار آدمی منظور نہ ہوں تو ان کے سوا اور چار اصحاب لے لئے جائیں جن میں ایک ان کا ہم خیال ہو اور ایک میری جماعت کا اور دو غیر احمد ہی ہوں۔میری طرف سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہوں گے اور غیر احمدی اصحاب میں سے سر محمد اقبال صاحب اور سر عبد القادر صاحب کو میں تجویز کرتا ہوں۔ان کا مجھ سے بھی تعلق ہے مگر لاہور میں رہنے کی وجہ سے مولوی صاحب سے زیادہ تعلق ہے۔چوتھا آدمی مولوی صاحب تجویز کر مولوی صاحب نے لکھا ہے پہلے زبانی اور خط و کتابت کے ذریعہ ان پر حملے کئے گئے۔اگر ایسا کیا گیا ہے تو مولوی صاحب وہ خطوط پیش کر دیں بات صاف ہو جائے گی۔باقی ان کا قاضی محمد سف صاحب پر الزام لگانا درست نہیں۔اگر یہ بیچ انھوں نے منظور کر لیا اور تحقیقات کے لئے بیٹھا تو ہم ثابت کریں گے کہ قاضی صاحب کی کتاب کے شائع ہونے سے قبل پیغام ہمارے خلاف حصہ لے رہا تھا۔اس بینچ کا یہ بھی کام ہو گا کہ وہ فیصلہ کرے مسائل پر بحث کس رنگ میں