خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 431

خطبات محمود ۴۳۱ سال ۱۹۲۸ء سامنے جو کچھ ہے وہ یہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر زور دینے والی کتاب زبور ہے اسی لئے زیادہ تر عیسائی اپنے وعظوں میں زبور کو پیش کرتے اور اس پر زور دیتے ہیں۔جتنے مشہور عیسائی واعظ ہیں وہ زبور کی آیات پڑھ کر ان پر اپنے وعظ کی بنیاد رکھتے ہیں۔وجہ یہ کہ اس میں خدا تعالٰی کی طرف متوجہ کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے مگر وہاں بھی ادعُوا إِلَى اللهِ والی بات نظر نہیں آتی۔حضرت داؤد یہ نہیں بیان کر رہے کہ اللہ کی طرف آؤ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں اور ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ایک کا تو یہ مطلب ہے کہ اپنی ذات کا فائدہ اٹھاؤ اور دوسری کا یہ ہے کہ اپنی ذات کا ہی فائدہ نہ اٹھاؤ بلکہ ساری دنیا کو فائدہ پہنچاؤ۔تو زبور میں بے شک محبت الہی کا ذکر ہے مگر وہ صرف حضرت داؤد سے مخصوص ہے اَدُعُوا اِلَى اللهِ نہیں ہے۔مگر قرآن کی جس سورۃ جس رکوع اور جس آیت کو دیکھو اس میں یہی نظر آئے گا کہ خدا تعالی کو پیش کیا گیا اور ساری دنیا کے لئے پیش کیا گیا ہے۔یعنی سب کو اس کی طرف جانے اور اس سے فیض حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔یہ قرآن کریم کی اتنی بڑی خوبی ہے جو مخالفین کو بھی متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔چنانچہ ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے میں نے پادریوں کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ قرآن ایک جھوٹی کتاب ہے اس وجہ سے مجھے اس کے پڑھنے کا خیال پیدا ہوا۔لیکن جب میں نے قرآن پڑھا تو ایک بات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اسے جھوٹا نہ کہوں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص کوئی جھوٹ بولتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔وہ یا تو روپیہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا قوم کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے یا ذاتی طور پر کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔غرض کوئی نہ کوئی اس کی غرض ہوتی ہے۔میں نے قرآن کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھا ہے مگر کوئی مقصد ایسا نہ نظر آیا۔اگر اس میں ایسی تعلیم دی جاتی جس سے محمد ) کے پاس دولت جمع ہو جاتی یا ان کو حکومت حاصل ہو جاتی یا ان کی قوم کو دوسروں پر برتری دی جاتی یا کوئی اور ذاتی یا قومی فائدہ حاصل کرتا تو میں سمجھتا اس شخص نے فلاں غرض کے لئے جھوٹ بولا ہے مگر قرآن میں ایسی باتوں میں سے کوئی بھی نظر نہیں آتی بلکہ شروع سے آخر تک یہی ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اس کی رضا حاصل کرو، اس کے حکم کے خلاف کوئی بات نہ کرو اس کا قرب حاصل کرو اور جب ہم اس انسان کی ذات کی طرف دیکھتے ہیں جس نے یہ باتیں بیان کیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو کام بھی وہ شروع کرتا ہے خدا کا نام لے کر شروع کرتا ہے اسے ہم جھوٹا تو نہیں کہہ سکتے۔اگر اس کا نام جنون رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسے خدا