خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 37

خطبات محمود ۳۷ سال 1927ء والے یہ ترقیوں کی جستجو کرنے والے، یہ کامیابیوں کی خواہش رکھنے والے مسجدوں میں ہی پڑے رہتے۔اگر وہ جانتے کہ ہمیں مسجدوں میں وہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی زیادہ مل سکتا ہے۔جو لوگوں کے دروازوں سے ملتا ہے۔اگر وہ جانتے کہ نماز کے ذریعے اس سے بہت زیادہ برکت اور عزت مل سکتی ہے جو دوسروں کی منت خوشامد کرنے سے میسر آسکتی ہے تو بجائے اس کے کہ نماز کے وقت لوگوں کو تلاش کیا جاتا۔شاید نماز کے وقت جگہ حاصل کرنے کے لئے ڈنڈے چل جاتے۔لوگ آتے اور کہتے ہمیں بھی تھوڑی سی جگہ دو۔ہمیں بھی خدا تعالٰی سے کچھ لے لینے دو۔پھر کیا مسجد میں دیران نظر آتیں۔اور مسلمانوں پر یہ تباہی اور بربادی آتی جو آج آرہی ہے۔ہرگز نہیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی ترقی اور کامیابی چاہتا ہے تو لوگوں کے دروازوں پر جاتا ہے۔ان کی منت و خوشامد کرتا ہے۔اور اگر نہیں آتا تو خدا تعالیٰ کے دروازہ پر نہیں آتا جو سب کامیابیوں اور ترقیوں کا دینے والا ہے وہ مدرسہ کی طرف تو جاتا ہے لیکن اگر نہیں جاتا تو مسجد کی طرف نہیں جاتا۔جس میں جانا تمام ترقیوں کو حاصل کرتا ہے۔وہ بڑے صبر سے لوگوں کے دروازوں پر جاتا ہے۔اور ایک کتے کی طرح صابر ہو کر بیٹھا رہتا ہے۔بڑی تیزی سے اس کا قدم ان لوگوں کے گھروں کی طرف اٹھتا ہے جن کے متعلق سمجھتا ہے۔کہ وہ کچھ دے سکتے ہیں۔لیکن نہیں اگر اس کا قدم اٹھتا تو مسجد کی طرف نہیں اٹھتا۔وہ اذان کو دھوکا اور نماز کو قریب سمجھتا ہے۔وہ منہ سے تو کہتا ہے کہ رسول کریم ایک رحمت تھے۔لیکن عمل سے وہ بتاتا ہے کہ رحمت نہیں تھے۔اور (نعوذ باللہ ) دھوکا دینے والے انسان تھے۔پس یہ سوال اکثر مسلمانوں کے عمل سے پیدا ہو رہا ہے۔اور بڑے زور سے پیدا ہو رہا ہے کہ اگر نماز کی یہی کیفیت ہے جو مسلمانوں نے آج سمجھ رکھی ہے۔اور جس کے مطابق انہوں نے اپنے عملوں کو بنایا ہوا ہے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے۔اور اس کے ساتھ ہی پھر یہ بات بھی پیدا ہوگی کہ کیا نماز میں کوئی رحمت ہے۔کوئی برکت ہے جو اس کے ذریعے میسر آتی ہے۔کوئی ایسی حکمتیں اس میں ہیں جن کے جاننے سے ترقیاں ملتی ہیں اور ناواقفی سے ان کے پانے سے محروم رہ جاتے ہیں تا اگر نماز فی الواقع رحمت ہے۔اگر فی الواقع اس میں کوئی برکت ہے۔اگر فی الواقع اس میں کوئی ایسی حکمتیں ہیں کہ جن کو جاننے سے ہم ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں اور ہم ان سے واقف نہیں۔یا ہم غفلت کے سبب ان کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمیں پھر اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔تاہم ان کو جان سکیں اور پھر عمل کر کے نتائج حاصل کر سکیں۔غرض یہ ایک سوال ہے جو مسلمانوں کے عمل سے پیدا ہو رہا ہے اور اس وقت ضرورت ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔