خطبات محمود (جلد 11) — Page 353
خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۲۸ء مرے نہیں۔یاد رکھو کہ فتح پانے والی قوم بہت سے امور پر عفو سے کام لیتی ہے۔انتظامی معاملہ میں سزائیں بھی مجبور ا دینی پڑتی ہیں مگر وہ بھی بھلائی کی خاطر ہوتی ہیں نہ کہ کسی غصہ یا جذبہ کے انتقام کے لئے۔حدیث میں آتا ہے کہ بعض صحابہ سے خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو قطع تعلق کرنے کا حکم دیا مگر وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جاتے تو آپ سنکھیوں سے ہماری طرف دیکھتے شے گویا دل سے محبت بھی کرتے تھے۔پس ہمیں اپنی زندگیاں اس وعدہ کے مطابق بسر کرنی چاہئیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر کیا ہے۔اور دعا کرنی چاہئے کہ جس غرض کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور جس غرض کے لئے ہم خدا تعالٰی کے نبی کے ہاتھ پر اکٹھے ہوئے ہیں خدا تعالی اس کو پورا کر دے۔ہماری کمزوریاں اس پر ظاہر ہیں اور کل طاقتیں اور قوتیں بھی اس پر ظاہر ہیں۔-1 الفضل ۱۷ / اپریل (۱۹۲۸ء) یہ خطبہ جمعہ حضور نے مسجد نور کے متصل جو بڑ کا درخت ہے اس کے نیچے فرمایا۔جس کا سایہ ناکافی ہونے کی وجہ سے بہت سے احباب کو دھوپ میں بیٹھنا پڑا تھا۔متنی باب ۲۰ آیت ۸ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعه ۱۹۹۳ شه فتح الباری جلدے صفحہ ۳۹۷ مطبوعہ دار النشر كتب الاسلامیہ لاہور 19 تذکره ها ایڈیشن چهارم بخاری کتاب المغازی باب غزوہ تبوک حدیث کعب بن مالک