خطبات محمود (جلد 11) — Page 354
خطبات محمود ۳۵۴ ۴۸ سال ۱۹۲۸ء خدا کی رحمت کے مظہر بنو (فرموده ۲۰/ اپریل ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جس قدر تعلیمیں خدا تعالی کی طرف سے انسان کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوتی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کا گر صرف یہی ہے کہ انسان ان پر عمل کرے خالی زبان پر ان تعلیموں کا آجانا کافی نہیں ہو سکتا۔ہم کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں دیکھتے جس کے صرف زبان سے رہنے سے کوئی فائدہ ہو۔اگر کوئی منہ سے روٹی روٹی کرے تو اس کا پیٹ نہیں بھر جائے گا۔یا پانی پانی کہنے سے پیاس نہیں بجھ جائے گی۔اسی طرح خدا تعالی کی تعلیمیں ہیں اگر ان کو انسان پڑھتا رہے اور بار بار دہراتا رہے مگر ان پر عمل نہ کرے تو اس کا روحانی پیٹ نہیں بھرے گا۔میں دیکھتا ہوں ابھی ہماری جماعت میں بہت لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔اس وقت میں خصوصیت سے اس بات کو لیتا ہوں جو آج کل مسلمانوں میں بہت عام ہے اور جس کے اثر کے نیچے کئی لوگ دبے ہوئے ہیں اور جو ایسی ہے کہ جن میں وہ پیدا ہوئی انہوں نے خدا کو بھلا دیا اور وہ خدا سے دور ہو گئے۔دوسرے لوگوں میں اگر یہ بات پائی جاتی ہے تو اس کا ہمیں چنداں فکر نہیں مگر ہماری جماعت جسے خدا تعالی نے لوگوں کی اصلاح اور ان میں نیکی پیدا کرنے کے لئے قائم کیا ہے اس میں اگر کوئی نقص ہو خواہ اس کے تھوڑے افراد میں ہو یا زیادہ میں یہ بہت افسوس کی بات ہے۔میں افسوس سے دیکھتا ہوں کہ یہاں قادیان سے بھی اور باہر کی مختلف جگہوں سے بھی متعدد بار ایسی شکائتیں آتی رہتی ہیں کہ آپس میں ذرا ذرا سی بات پر ناراضگی پیدا ہو جاتی ہے اور دوست آپس میں لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف میں خدا تعالی فرماتا ہے۔