خطبات محمود (جلد 11) — Page 329
خطبات محمود ۳۲۹ سال ۴۱۹۲۸ کی طاقتیں ابھی نشود نما پا رہی تھیں اور ان سے بڑی عمر والوں کی طاقتیں ایک حد تک مکمل ہو چکی تھیں۔یہ تجربہ باکسنگ میں کیا گیا ہے۔دراصل یہ زمانہ چربی پیدا ہونے کا زمانہ ہوتا ہے اور قدرت انسانی جسم میں ہر ایک چیز اپنے اپنے ٹھکانے لگا رہی ہوتی ہے اور اس طرح ذخیرہ جمع کر رہی ہوتی ہے۔اس وقت اگر نقصان پہنچ جائے تو اس کا اثر ساری عمر پر پڑتا ہے۔پس چودہ پندرہ سال کی عمر سے بلکہ بارہ سال کی عمر سے کچھ کچھ روزے رکھوانے شروع کر دینے چاہئیں۔اس طرح روزہ رکھنے کا احساس پیدا ہو تا رہے گا اور پھر ہر سال اس تعداد کو بڑھاتے جانا چاہئے۔یہاں تک کہ قوتیں پوری نشو و نما پالیں پھر پورے روزے رکھوائے جائیں۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مضبوط اور ہٹا کٹا نظر آئے مگر اس کی صحت اچھی نہ ہو اور اسے ایسا عارضہ لاحق ہو جسے وہ خود ہی سمجھ سکتا ہے۔مثلاً اس کا دل کمزور ہو تو خواہ اس کا جسم دوسرے سے ڈیوڑھا ہو اور قد چھ فٹ ہو تو بھی صحت کے لحاظ سے اس سے کمزور ہو گا۔مگر اس کی کیفیت وہ خود جان سکتا ہے یا ڈاکٹر جان سکتا ہے۔اسی طرح اور کئی مرضیں ہوتی ہیں جن میں روزہ رکھنا سخت مضر ہے مگر وہ دیکھنے والوں کو نظر نہیں آسکتیں۔پس ان حالات میں وعظ و نصیحت کی جا سکتی ہے۔ہمارے ہاں ایک مثل مشہور ہے کہ "من حرامی مجتاں ڈھیر " یعنی اگر کسی کام کو جی نہ چاہے تو بیسیوں حجتیں نکال لی جاتی ہیں مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ عذر موجود ہو مگر دیکھنے والے کو نظر نہ آئے۔دیکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عصر کے وقت میر کو تو چلے جاتے تھے مگر مسجد میں نہ آسکتے تھے۔وجہ یہ کہ دل کی کمزوری کی وجہ سے دل کا دورہ ہو جاتا تھا۔اس بیماری والا آدمی چل پھر تو سکتا ہے مگر مجمع میں بیٹھ نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ دل کی کمزوری کثرت کار کی وجہ سے تھی۔اب بظاہر دیکھنے والا کہے گا کہ بیماری کا محض بہانہ ہے لیکن اگر اس قسم کی بہاری اسے ہو تو خود بیٹھ کر بھی نہیں بلکہ لیٹ کر نماز پڑھے گا پس ایسی حالتیں ہوتی ہیں۔لیکن اگر کوئی بہانہ بناتا ہے تو یہ چالیس سال کی عمر کا بھی بنا سکتا ہے تو جوانی کی شرط نہیں ہے۔ان باتوں کی اصلاح کا طریق یہی ہے کہ مسئلہ بیان کر دیا جائے۔خدا تعالیٰ کی خشیت یاد دلائی جائے اور بتایا جائے کہ اسلام کے احکام بیگار اور چٹی کے طور نہیں بلکہ انسان ہی کے فائدے کے لئے ہیں اس لئے ان پر عمل کرنا چاہئے۔ان باتوں کے باوجود اگر کوئی بہانہ بناتا ہے تو پھر وہ ہمارے بس کا نہیں۔مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان سچا عذر رکھتا ہے مگر ہمیں وہ عذر نظر نہیں آتا اس لئے بد ظنی نہیں کرنی چاہئے۔میں نے