خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 317

خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۲۸ء رمضان المبارک کی برکات سے فائدہ اٹھاؤ (فرموده ۲ مارچ ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے متعلق مختلف لوگوں نے اپنے اپنے افکار کے اظہار میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔بعض لوگ اپنی محبت کی رو میں بہہ کر اور علم دین سے ناواقفیت کی وجہ سے اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو بالکل انسانی تقاضوں اور انسانی اعمال سے مشابہ ہوتی ہیں۔مولانا روم نے اپنی مثنوی میں تو ایک قصہ کے طور پر ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے ایک چرواہے کو دیکھا کہ وہ جنگل میں بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا کہ اے خدا اگر تو میرے پاس آئے تو میں تجھے نہایت عمدہ اور لذیذ دودھ پلاؤں ، تیری جو میں نکالوں اور تیرے بال درست کروں۔غرض جو اس چرواہے کے نزدیک عمدہ بکری یا پیارے بچے سے سلوک کیا جاتا ہے وہ خدا سے کرنا چاہتا تھا۔مولانا روم نے لکھا ہے اس بزرگ نے جب یہ باتیں سنیں تو اس کو ڈانٹا اور کہا یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ اس پر انہیں الہام ہوا کہ اسے ڈانٹنا نہیں چاہئے اس کی یہی باتیں مجھے پیاری لگتی ہیں۔بات یہ ہے کہ جب تک ایسی باتیں مذہب کا حصہ اور عقائد کی بنیاد نہیں بن جاتیں ایک عاشقانہ جذبہ کی لے ہوتی ہیں اس لئے پیاری لگتی ہیں لیکن جب یہ مذہب میں داخل ہو جائیں اور عقائد کی بنیاد بن جائیں تو یہی باتیں شرک اور کفر بن جاتی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتی ہیں۔جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص ایک موقع پر بے اختیار ہو گیا۔اس کو خدا تعالی کا احسان یاد آیا۔اس جوش محبت میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ اے خدا تو میرا بندہ اور میں تیرا خدا ہوں۔گویا جوش محبت میں الٹ بات اس کے منہ سے نکل گئی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں خدا تعالی کو اس کی یہ بات -