خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ ۴۱ سال ۱۹۲۸ء مذہب کی غرض حصول تقویٰ ہے فرموده ۱۷ / فروری ۱۹۲۸ء بمقام پھیرو پیچی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میری طبیعت ایسی نہ تھی کہ میں یہاں آسکتا لیکن یہاں کی جماعت کے اخلاص اور محبت نے مجھے مجبور کیا کہ اپنے وعدہ کے مطابق یہاں آؤں اور گو مختصر طور پر ہی کچھ بیان کر سکوں لیکن کچھ نہ کچھ آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں۔اسلام کی تعلیم اور اس کا مغز جہاں تک ہم دیکھتے ہیں تقویٰ اللہ ہے۔اللہ تعالٰی کا تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور اس میں خصوصیت پیدا کرتی ہے۔دنیا میں مذہب بہت سے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن ان سب میں سے صرف ایک ہی سچا ہو سکتا ہے اور وہی مذہب سچا ہے جو تقوی اللہ کی طرف لے جاتا ہے۔پس جس غرض اور حقیقت کے لئے انسان ایک مذہب قبول کرتا ہے اس کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ وہ اسے حاصل ہو رہی ہے یا نہیں۔ہر سمجھدار اور عقل مند انسان جب کسی غرض اور مقصد کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اسے پورا کر کے واپس آتا ہے۔ایک زمیندار جو چارہ کاٹنے کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے وہ چارہ کاٹ کر لاتا ہے۔کوئی عقل مند ایسا نہیں جو گھر سے چارہ کاٹنے کے لئے نکلے لیکن باہر جا کر کسی درخت کے نیچے سو رہے اور خالی ہاتھ واپس آجائے یا کبھی ایسا نہیں ہو تا کہ کوئی سمجھدار زمیندار گھر سے کل چلانے کے لئے جائے اور یونسی پھر پھرا کر واپس آجائے۔اسی طرح جب انسان کوئی مذہب قبول کرتا ہے اور خصوصاً ایسا مذ ہب جس کے لئے اسے اپنے عزیزوں اپنے دوستوں کو چھوڑنا پڑے اسے خوب اچھی طرح دیکھنا چاہئے کہ جو مذہب کی غرض ہے وہ اسے حاصل ہو رہی ہے یا نہیں۔ایک تو ایسا انسان ہوتا ہے کہ جس