خطبات محمود (جلد 11) — Page 303
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء سے مسلمان ہیں جو مسجدیں بناتے لوگوں کے آرام کے لئے سرا ئیں تعمیر کرتے کھیتوں سے غریبوں اور محتاجوں کا حق نکالتے ہیں مگر باوجود ان قربانیوں کے ان کی کوششوں کے اعلیٰ نتائج نہیں نکلتے۔بجائے اس کے کہ اسلام کو ترقی حاصل ہو وہ کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔پھر مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات ذکر اذکار میں لگے رہتے ہیں۔ہمارے حافظ روشن علی صاحب سناتے تھے ان کے والد صاحب جوانی کی عمر میں ہی ایک غار میں جا بیٹھے تھے اور انہوں نے چھ ماہ کے روزے رکھنے شروع کر دیئے تھے۔وہ ۲۴ گھنٹے میں جو کے چند دانے اور ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈال کر پانی پی لیتے۔اور پھر روزہ رکھ لیتے اس وجہ سے ان کو رسل کی بیماری ہو گئی اور وہ تھوڑے ہی عرصہ میں فوت ہو گئے۔تو مسلمانوں میں اس قسم کی ریاضتیں کرنے والے پائے جاتے ہیں مگر ان کی ریاضتوں کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو ان صحابہ کی معمولی عبادتوں کا لکھتا تھا جو تجارت کرتے اونٹ چراتے اور زمینداری کرتے تھے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ صحابہ چونکہ اصل راستہ پر چلتے تھے اس لئے اگر دو قدم بھی اٹھاتے تھے تو بھی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتے جاتے تھے لیکن اب لوگ اصل راستہ پر نہیں چلتے اس لئے جو قدم بھی اٹھاتے ہیں خدا سے دور ہوتے جاتے ہیں۔پس مسلمانوں کی حالت بتا رہی ہے کہ انہوں نے اس طریق کو چھوڑ دیا ہے جس پر چلنے سے خدا تعالی مل سکتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جب ہم اپنی جماعت کو دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کی عجیب باتیں نظر آتی ہیں۔ایک معمولی اور ان پڑھ آدمی ہوتا ہے لیکن وہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ بڑے بڑے مولوی حیران ہو جاتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ایک صاحب مجھے ملے انہوں نے بیعت تو بہت دیر کی کی ہوئی تھی مگر مجھے اب ملے۔انہوں نے مولویوں سے مباحثوں کے قصے سنائے۔وہ ان کی پڑھ ہیں اور میں نے ان کی باتیں اس خیال کو دل میں رکھ کر سنیں کہ کوئی غلط بات تو انہوں نے نہیں کی مگر ہر مباحثہ میں جو جواب انہوں نے دیئے۔ان میں کوئی بات بے علمی کی یا غلط نہ تھی۔ان کی سب باتیں صحیح اور درست تھیں۔وہ سناتے تھے جب لوگ باتیں سنتے تو کہتے تم یہ غلط کہتے ہو کہ تم پڑھے ہوئے نہیں اگر تم پڑھے ہوئے نہیں تو یہ آیتیں اور حدیثیں تمہیں کہاں سے معلوم ہو گئیں۔وہ کہتے یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی علامت ہے کہ آپ کو ماننے کی برکت سے مجھے باوجود ان پڑھ ہونے کے یہ باتیں آگئیں۔