خطبات محمود (جلد 11) — Page 259
خطبات محمود ۲۵۹ سال 1927ء سارا شہر ان کی آبادی پر حیرت ظاہر کرتا ہے۔مگر ان پر ایسی تباہی آتی ہے کہ کوئی انسان ان میں باقی نہیں رہتا۔اس خاندان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔اس کے آثار بالکل ناپید ہو جاتے ہیں۔ایسے گھروں سے بھی انسان عبرت حاصل کر سکتا ہے۔مگر ہمیں گھروں کو بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں اگر اپنی حالت پر ہی نظر ڈالیں۔اگر ہم صرف یہی دیکھیں کہ ہم کیا چیز تھے اور اب کیا ہیں۔تو صاف نظر آجاتا ہے کہ ہر مسلمان ایک مٹا ہو انشان ہے۔آج ہی میں نے ان عورتوں کو جو جلسہ کی کارکن ہیں اور جنہوں نے عورتوں کے متعلق جلسہ میں انتظام کرنا ہے۔نصیحت کرتے وقت کہا تھا کہ ہمارے لئے کیسی عبرت کی جگہ ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے۔جہاں چھ سو سال تک ایک مسلمان چپڑاسی کی بھی کوئی ہتک کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔لیکن اب یہی ملک ہے جہاں ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری شنوائی کے حلقہ کے اندر محمد رسول اللہ اللہ لینے کو بھی گالیاں دی جاتیں اور ہمیں بھی برابھلا کہا جاتا ہے مگر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔پھر کیا ہندوستان کی چپہ چپہ زمین ہمارے لئے عبرت کی جگہ نہیں ہے؟ پس ہمارے اپنے وجود ہی ہمارے لئے عبرت کی جگہ ہیں۔ہم کن باپ دادوں کی اولاد ہیں۔ان کی کہ جو اٹھے تو کوئی طاقت ان کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکی۔اور جب انہوں نے اپنی گردنیں اونچی کیں تو دنیا کی گردنیں ان کے آگے جھک گئیں۔مگر اب ہر شعبہ زندگی میں مسلمان ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں۔اگر مسلمان زمینداری کرتے ہیں تو اس میں گرے ہوئے ہیں۔اگر تجارت کرتے ہیں تو اس میں گرے ہوئے ہیں۔اگر ملازمت کرتے ہیں تو اس میں گرے ہوئے ہیں۔کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس میں وہ ترقی کر رہے ہوں۔میں پچھلے دنوں شملہ گیاتو دیکھا کہ ایک بازار جہاں سب مسلمانوں کی دکانیں تھیں۔وہاں اب صرف دو دکانیں مسلمانوں کی رہ گئی تھیں باقی ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں جاچکی تھیں۔اور یہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کی دکانوں پر ان کے ملازم تھے۔اب مسلمان کرائے کی دکانوں میں رہتے ہیں اور دکانیں ان کے ملازموں نے خرید لی ہیں۔یہ تبدیلی اور تغیر ایسا عام تغیر ہے جو مسلمانوں کے ہر فرد پر حاوی اور ہر جگہ پایا جاتا ہے۔اس کے لئے کسی خاص تباہ شدہ مکان یا زمین کے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ہر مسلمان کا اپنا نفس عبرت کی جگہ ہے۔آج ہندوستان میں وہ لوگ نہایت ذلت کی حالت میں پائے جاتے ہیں۔جن کے باپ دادوں کے سامنے بڑے بڑے لوگوں کی روحیں کانپتی تھیں۔اس وقت اکبر اور جہانگیر کی اولاد موجود ہے۔جن کے سامنے بڑے بڑے راجے مہاراجے جو اس وقت بھی اپنے آپ کو بہت بڑے سمجھتے تھے اور اب بھی سمجھتے ہیں۔اور جو اس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس میں دوسروں