خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 214

خطبات محمود ۲۱۴ سال 1927ء دینی خدمات کی قدر کرتے ہیں۔اور دوسروں کو قدر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور کہتے ہیں تم بھی احمدیوں کی طرح کام کرو۔میں سمجھتا ہوں ایسے لوگ اپنے اندر یکی رکھتے ہیں اور قابل قدر ہیں میں ان کی نسبت اس وقت نہیں کہہ رہا بلکہ ایسے لوگوں کے متعلق کہہ رہا ہوں جو ہمیشہ ہماری ہر نیکی کو بدی قرار دیتے ہیں۔انہیں جب کبھی کوئی ایسا موقع ملے کہ وہ ہم پر اعتراض کر سکیں تو یہ ان کے لئے عید کا دن ہوتا ہے۔مگر مومن کے لئے ایسی باتوں سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔جب ہم نے ایک صداقت اور حق کو تسلیم کرلیا ہے اور سمجھ سوچ کر تعلیم کیا ہے تو پھر اعتراض کیا چیز ہوتے ہیں۔دیکھو اگر کوئی بیان کرے کہ مجھے ایک دوست ملنے آئیں گے جن کا اس قسم کا کوٹ ہو گا۔ایسا پاجامہ۔لیکن جب وہ آئے اور اس قسم کے کپڑے نہ پہنے ہوئے ہو تو کیا اس کے دوست ہونے سے ہی انکار کر دیا جائے گا۔یہ چیزیں جو بیان کی گئی تھیں ایسی ہیں جو بدلنے والی ہیں اور جو بدلی جاسکتی ہیں۔پھر بعض دفعہ نظر کی غلطی بھی ہو جاتی ہے ایسی باتوں سے دوست کا انکار نہیں کیا جائے گا کہ اس کا ایسا کوٹ نہیں یا دیا پا جامہ نہیں جیسا میں نے دیکھایا سمجھا تھا۔جب آنکھیں اس کے دوست ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔تو اس کے کپڑوں کی تبدیلی سے اس کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ایسے موقعہ پر یہی کہا جائے گا کہ آنکھوں کو غلطی لگ گئی۔یا بعد میں تبدیلی ہو گئی۔اسی طرح سلسلہ یا نظام سلسلہ کے متعلق اعتراض سن کر کوئی ایسا شخص جس نے سمجھ کر مانا ہے کس طرح اسے چھوڑ دے گا۔ایک مسلمان کو رسول اور نبی کی صداقت پر کم از کم اتنا ایمان تو ضرور ہونا چاہئے جتنا سورج کے موجود ہونے پر ہوتا ہے۔اب اگر کوئی دن کو کہے کہ سورج نہیں چڑھا ہوا تو کیا اس کا کہنا درست مان لیا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی رسول پر اعتراض کرتا ہے۔یا نظام سلسلہ پر اعتراض کرتا ہے تو کیونکر اس کے اعتراض کو درست تسلیم کر لیا جائے گا۔ایسی حالت میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ پہچاننے میں غلطی لگی۔نظر نے غلطی کھائی یا یہ کہ ایسی باتیں ہوا ہی کرتی ہیں ان سے نبی کی شان میں کوئی حرف نہیں آتا مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لوگ اعتراض کرتے تھے کہ آپ اچھا کھانا کھاتے ہیں۔بیوی کو زیور بنا کر دیتے ہیں۔بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔آپ کی صداقت پر ایمان رکھنے والا کہے گا آپ دماغی کام کرتے تھے اس لئے اچھا کھانے میں کیا حرج ہے۔اور آپ کو اعصابی کمزوری تھی اس لئے بادام روغن استعمال کرتے تھے۔بیوی کو زیور یا کپڑے بنوا کر دینا کہاں منع ہے۔تو بعض دفعہ بات صحیح ہوتی ہے اور قابل اعتراض نہیں ہوتی۔اس لئے یہی کہا جائے گا کہ کہنے والا جھوٹ بولتا ہے یا جھوٹ نہیں بولتا غاط فہمی میں مبتلا ہے۔