خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 213

خطبات محمود ۲۱۳ سال 1927ء دوسرے ان سے بھی بد تر ہوتے ہیں۔وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم تو نہیں کہتے مگر لوگ یہ کہتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر تم نہیں کہتے تو پھر تمہیں دوسروں کی باتیں دہرانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ دراصل ان کی چال ہوتی ہے۔تاکہ اگر تحقیقات شروع ہو اور مقدمہ چلے تو وہ کہہ دیں کہ ہم نے تو کچھ نہیں کہا لوگ یوں کہتے تھے۔خدا تعالٰی نے ایسے لوگوں کو بھی منافق قرار دیا ہے اور فرماتا ہے۔انہیں جب کوئی خوف یا امن کی بات معلوم ہوتی ہے۔تو اسے پھیلا دیتے ہیں دیکھو خوف کی بات تو الگ رہی فرماتا ہے جو امن کی بات کو بھی خود سرانہ طور پر پھیلاتا ہے وہ کمزوری ایمان کا ثبوت پیش کرتا ہے۔اس کا کام یہ تھا کہ نبی یا اس کے خلیفہ کے پاس جاتا اور اس کے سامنے وہ بات پیش کرتا۔پھر اگر وہ اجازت دیتا تب پھیلا تا۔غور کرو جب امن کی بات خود بخود پھیلانے سے انسان منافق کہلاتا ہے۔تو کیا حال ہو گا اس کا جو فتنہ کی باتیں پھیلاتا ہے۔مگر دوسری قسم کا منافق اس سے بھی بد تر ہوتا ہے۔کیونکہ پہلی قسم کے منافق میں اتنی تو جرأت یا یوں کہو اتنی بے حیائی پیدا ہو چکی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں میں کہہ دیتا ہے کہ یہ خرابی پیدا ہو گئی ہے۔مگر ایک دوسرا منافق ہوتا ہے جس میں یہ بات بھی نہیں ہوتی۔بلکہ اس کا یہ طریق ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ایمانی لحاظ سے کمزور سمجھے یا جن کو کمزور بنا دینے کی اپنے اندر طاقت سمجھے ان کے سامنے ایسی باتیں کرتا ہے اور پھر وہ باتیں دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے۔اس میں اسے پر نظر چو ہے کی طرح دوسرا سوراخ ہوتا ہے تاکہ اگر کوئی پکڑنے لگے تو دوسرے رستہ سے بھاگ جائے۔یہ سب سے زیادہ منافق ہوتا ہے۔اس سے جرأت قطعاً مفقود ہو چکی ہوتی ہے۔دوسرا طبقہ منافقوں کا وہ ہوتا ہے جو نام کی طرف تو منسوب ہوتا ہے مگر نظام میں شریک نہیں ہو تا۔جیسے غیر مبائعین ہیں انہوں نے ہم سے صلح کے وعدے کئے۔مخالفت نہ کرنے کے اقرار کئے۔مگر باوجود اس کے کہ ہم وعدہ پر قائم ہیں۔وہ متواتر ایسے مسائل اٹھاتے رہتے ہیں جن کے ذریعہ دوسرے لوگوں اور ہم میں لڑائی کرائیں۔اور وہ اندرونی منافق جن کو اب جماعت سے نکال دیا گیا یا جو پہلے نکلے ان سے مل کر ہمارے خلاف کوششیں کرتے رہتے ہیں۔تیسرے طبقہ میں وہ لوگ ہیں جو ہماری جماعت کی طرف منسوب نہیں۔ان کے دل بغض اور عداوت سے پر ہیں۔خواہ وہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ہوں۔یا عیسائیوں۔یہودیوں میں سے یا ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں سے ان سب میں سے ایک طبقہ ایسا ہے جو ہماری مخالفت میں دن رات لگا رہتا ہے۔مسلمانوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو فراخ دلی سے ہماری