خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ سال 1927ء کر سکتا ہو۔خدا کے بچے دین کو سمجھ سکتا ہو۔وہ اگر جہالت سے اٹھی سلسلہ میں روک بنتا ہے تو اللہ تعالٰی یا تو اسے سمجھنے کی توفیق دے دیتا ہے یا مقابلہ کی توفیق نہیں دیتا۔مگر جو گناہوں کے زنگ اور شرارت کی وجہ سے خدا کی طرف سے سزا دیا جاتا ہے کہ الہی سلسلہ کی مخالفت کرے اس کی جہالت کا عذر نہیں سنا جا سکتا۔کیونکہ اگر اس کا عذر بھی سنا جا سکتا ہے تو پھر کسی کو بھی سزا نہیں دی جاسکتی۔وجہ یہ کہ ہر بدی جہالت کی وجہ سے ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے پھر کیا کسی کو بھی سزا نہ ملنی چاہئے۔مگر حق یہ ہے کہ جہالتیں دو قسم کی ہیں۔ایک عدم علم کی وجہ سے۔دوسری زنگ قلب کی وجہ سے۔جو عدم علم کی وجہ سے ہوتی ہے اس کی کوئی سزا نہیں ہوتی اور جو زنگ قلب کی وجہ سے ہوتی ہے وہ چونکہ خود سزا ہوتی ہے۔اس لئے وہ سزا میں روک نہیں بن سکتی۔اس حالت میں اسے بنایا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ سزا کا مستحق ہو۔اگر اس کی وجہ سے سزا سے نکل گیا تو یہ سزا نہ رہی بلکہ رحمت ہو گئی۔غرض اللہ تعالی کی طرف سے ہمیشہ الٹی سلسلہ کے مقابلہ میں ایسے لوگ کھڑے ہوتے ہیں جو روک بنتے ہیں۔یہ لوگ کبھی تو ایسے ہوتے ہیں جو ان سلسلوں میں نام کے لحاظ سے شامل ہوتے ہیں جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو نام کی طرف تو منسوب ہوتے ہیں لیکن نظام کی طرف منسوب نہیں ہوتے۔جیسے حضرت علی کے زمانہ میں خوارج تھے۔اور کبھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ نام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔نہ نظام کے لحاظ سے کوئی تعلق رکھتے ہیں جیسے مکہ کے کفار۔یہود اور نصاری۔اسی قسم کے لوگ ہماری جماعت کے مقابلہ میں بھی کھڑے ہوتے ہیں۔کچھ تو منافق ہیں۔جو احمدی کہلاتے ہیں مگر ایسی باتیں پھیلانے میں لگے رہتے ہیں جن سے جماعت میں تفرقہ پیدا ہو۔جماعت کی قدر و وقعت دوسروں کی نظروں سے گر جائے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو نام میں تو شریک ہیں مگر نظام میں شریک نہیں۔ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ نظام جماعت کو توڑ دیں پھر کچھ وہ ہیں جو نہ نام میں شریک ہیں نہ نظام میں۔ان کی یہ کوشش ہے کہ جماعت ہی ٹوٹ جائے۔لیکن تینوں قسم کے لوگ خدا کے ہاتھ کو نہیں دیکھتے۔خدا تعالی کا منشاء ہے کہ جماعت احمدیہ کو قائم کرے۔اس کے نظام کو مضبوط کرے۔اس کی قدرد عظمت کو بڑھائے۔پس جو اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو گاذلیل و رسوا ہو گا۔خواہ وہ احمدی کہلانے والا منافق ہو اور اتنا ہو شیار منافق ہو کہ خود اپنی طرف سے کوئی بات نہ کے بلکہ اس طرح تفرقہ اندازی کرے کہ لوگ یوں کہتے ہیں۔منافق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں میں یہ یہ عیب پائے جاتے ہیں اور