خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 208

خطبات محمود ۲۰۸ سال 1927ء ان کو چھوڑنا بے وقوفی ہے۔اور جب دشمن ان کو استعمال کر رہا ہو تو ان کا چھوڑنا خود کشی ہے۔جب تلواروں سے جنگ ہوتی تھی۔اس وقت تلواروں سے جنگ کرنا موزوں تھا۔مگر آج تو ہوں کے مقابلہ میں تلواروں سے مقابلہ کیا جائے تو یہ خود کشی ہوگی۔بخارا کے امیر کا واقعہ لکھا ہے کہ جب روس نے اس پر حملہ کرنا چاہا تو اس نے علماء کو بلا کر مشورہ کیا کہ صلح کرلینی چاہئے۔علماء نے کہا کافروں سے صلح کیسی۔جنگ کرنی چاہئے۔ہم آیتیں پڑھیں گے اور ان کو مغلوب کرلیں گے۔اس پر مقابلہ کی تیاری ہوئی۔اور علماء بکریوں کے لئے پتے جھاڑنے والی لکڑیاں اور رسے لیکر نکل کھڑے ہوئے۔اور وہ آیتیں جو ان کے نزدیک سحر کو دور کرنے والی تھیں۔پڑھنی شروع کیں۔لیکن جب روسیوں کی طرف سے گولہ باری ہوئی تو سحر ہیں۔لیکن جہ سحر کرتے سارے بھاگ گئے۔ہر زمانہ کے حالات کے مطابق مقابلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ایک زمانہ ایسا تھا جب پیدل چلنے والا تبلیغ کر سکتا تھا۔جہاں تک اس کا بس چلتا۔وہ کام کرتا۔آگے دوسرے اس کام کو چلاتے۔مگر اب دنوں مہینوں اور سالوں میں بڑے بڑے تغیرات ہو جاتے ہیں ریل۔تار ہوائی جہاز۔وائرلیس۔ریڈیو نے انسانوں کو ایک دوسرے کے ایسا قریب کر دیا ہے کہ ہو شیار انسان ایک جگہ بیٹھا سب دنیا کو اپنی باتیں سنا سکتا ہے۔جب ہم ولایت گئے۔تو چاروں طرف سے شور پیدا ہو گیا اور جتنے عرصہ میں ہم ولایت سے واپس بھی آگئے۔پرانے زمانہ میں اس سے چار گنا عرصہ میں کوئی ولایت کی زمین کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔اس وقت جہاں جہاں چار ماہ کے عرصہ میں اطلاع پہنچی۔اور تیرہ آدمیوں نے جتنے عرصہ میں کام کیا۔اگر تیرہ آدمی ساری عمر بھی خرچ کر دیتے تو اس کے ہزارویں حصہ تک بھی خبر نہ پہنچا سکتے۔پس اس زمانہ میں جب کہ خدا تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کر دئیے ہیں۔جن کے ذریعہ جلد سے جلد کام کیا جا سکتا ہے۔تو یہ خیال کرنا کہ بغیر روپیہ کے کام ہو سکتا ہے۔بے وقوفی ہے۔یہ زمانہ ایسا ہے کہ مال سے ہی کام چل سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ عملی باتوں میں سے جس کا وعدہ لیا گیا ہے۔وہ یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ ذاتی قربانی کوئی ہستی نہیں رکھتی جب تک اسے پھیلانے کے سامان نہ ہوں۔اور وہ سامان روپیہ ہے۔ایک آدمی خواہ کتنا ہی کام کرے دو سرا جو آجکل کے پیدا شدہ ذرائع سے کام