خطبات محمود (جلد 11) — Page 190
خطبات محمود سال 1927ء ہیں۔کیونکہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ ایسے افعال تھے جن کے لئے لفظی ندامت کافی نہ تھی۔ان کی صرف ایک غلطی نہ تھی بلکہ بیسیوں غلطیاں رسول کریم ﷺ کی نظر میں تھیں۔اور وہ ایسی نہ تھیں جنہیں اجتہاد کی کمزوری کی غلطی کہا جاسکے۔بلکہ وہ غلطیاں ایسی تھیں جن میں کمینہ پن غداری و خفیہ سازش کی آمیزش تھی۔اتنے لمبے تجربے اور اتنی غلطیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ایسی غلطیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جو وقتی جوش کے ماتحت نہیں آسکتی تھیں بلکہ غداری اور سازش کے نتیجہ میں تھیں۔ان کی وجہ سے رسول کریم ﷺ ان لوگوں کے لفظوں پر اعتبار نہ کر سکتے تھے اور نہ آپ نے اعتبار کیا۔جب انہوں نے کہا ہم صلح کرتے ہیں تو ان امور پر نظر ڈالتے ہوئے اور ان کے اطوار و اعمال کا تجربہ سامنے رکھتے ہوئے آپ نے کہا ہم بھی صلح کے لئے تیار ہیں۔مگر ہم اس صلح پر کسی نیک نتیجہ کا مدار نہیں رکھ سکتے۔جو صرف اتنی ہو کہ لڑائی بند ہو جائے۔اگر تمہارا یہ مطلب ہے کہ پہلے کی طرح ہماری بغل میں بیٹھے رہو۔اور جب موقع ملے چھری چلاتے ر ہو تو اس کے لئے ہم تیار نہیں۔اب صلح اسی پر ہو سکتی ہے کہ دس دن کے اندراندر تمام قلعے خالی کردو۔یہ وہ احتیاط تھی جو دنیا میں صلح کی سب سے بڑی خواہش رکھنے والے انسان نے کی۔دنیا میں اگر کوئی سب سے زیادہ امن قائم کرنے والا اور صلح رکھنے والا انسان ہو سکتا ہے تو وہ محمد اے تھے۔مگر آپ نے بھی یہ نہیں کیا کہ جب دشمن نے کہا صلح کر لو تو آپ نے کہا کر لو۔بلکہ آپ نے دیکھا ان لوگوں نے کسی وقتی جوش کے ماتحت نہیں بلکہ سالہا سال کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے نتیجہ میں جنگ کی۔انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں۔باہر کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا۔ہر قسم کے منصوبے کئے جب اتنے لمبے عرصہ میں انہوں نے خدا کا کوئی خوف نہ کیا۔اور کسی شرافت کا ثبوت نہ دیا تو آئندہ ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ان حالات میں آپ نے صلح تو کی مگر ایسی شرائط پر کی کہ آئندہ کے لئے خطرہ نہ رہے۔اس وقت جو جھگڑا ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہے اس کے متعلق بھی ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ وقتی جوش کے ماتحت پیدا ہوا۔کسی ایک آدمی نے اٹھایا یا سالہا سال کی کوششوں۔تدبیروں اور منصوبہ بازیوں کا نتیجہ ہے۔اور قوم کی قوم اس کے پیچھے ہے۔اگر ایک لمحہ کے لئے بھی حالات پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر بہت بڑے بڑے اور بہت سے لوگوں کا دخل ہے۔اور یہ منصوبہ بیسیوں سال سے چلا آ رہا ہے۔رسول کریم اللہ اور اسلام کی ہتک آج