خطبات محمود (جلد 11) — Page 149
خطبات ۱۴۹ سال 1927ء گورنمنٹ نے اس کی بات کو تسلیم کر لیا تو فبہا اور اگر نہ تسلیم کیا تو خلیفہ وقت غور کرے گا کہ کیا اس کا حکم کسی ایسے امر کے متعلق ہے۔جسے حکومت کی خاطر ترک کیا جا سکتا ہے۔یا کسی ایسے امر کے متعلق ہے۔جسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔اگر وہ ایسا معاملہ ہوا کہ جسے ترک کیا جا سکتا ہے۔تو وہ اس مقام پر پہنچ کر اپنے حکم کو بدل دے گا اور اگر اس کے نزدیک وہ معاملہ اہم ہوا۔جسے شرعا چھوڑا نہیں جاسکتا۔تو حسب حکم شریعت وہ اپنی جماعت کو حکم دے گا کہ امن کے ساتھ وہ اس گورنمنٹ کے علاقہ سے نکل جائے۔ہر اک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس تعلیم کے ماتحت کوئی فساد ہو ہی نہیں سکتا۔زیر بحث سوال کے متعلق حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا بھی ایک فیصلہ موجود ہے۔گورنمنٹ اس فیصلہ پر ہی غور کر کے ہدایت پا سکتی تھی۔انجیل میں لکھا ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے۔انہوں نے قیصر کو جزیہ دینے کے متعلق دریافت کیا۔ان کا مطلب یہ تھا۔کہ کسی طرح حضرت سیح علیہ السلام کو پھنسا ئیں۔مگر حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کو کیا ہی لطیف جواب دیا کہ جو " قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو " (متی ۱۲ : ۲۱) جس کا مطلب یہی ہے کہ میں قیصر کا مخالف نہیں ہوں۔کیوں نہ اس افسر نے یہی جواب ہماری طرف سے سمجھ لیا۔یہی منشاء حضرت مسیح علیہ السلام کا اس جواب سے تھا کہ میرے اور قیصر کے احکام کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہ ہو گا۔وہ جانتے تھے کہ میری تعلیم قیصر کے مخالف نہیں۔اسی لئے تو انہوں نے ان کو ایسا کہا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو رو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرد۔یعنی ملک میں بدامنی اور شورش پیدا نہ ہونے دو۔حضرت مسیح نے ان کو بتا دیا کہ قیصر کی حکومت ہے۔اور جس کی حکومت ہو اگر وہ مانگے تو اس کو جزیہ دینا چاہئے۔تم اسے بھی دو کہ امن قائم رہے۔اور خدا کا حق بھی ادا کرو کہ وہ بھی خوش رہے۔حضرت مسیح نے جو کچھ ان کو کہاوہ اسی تعلیم کے مطابق تھا جو تمام نبی دیتے چلے آئے۔لیکن باوجود اس حکم کے کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنا درجہ قیصر سے کم سمجھتے تھے۔ہاں وہ خود شریعت کے حکم کے مطابق اس کے فرمانبردار تھے۔اور مسیح کے مانے والے دونوں کے فرمانبردار اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم قیصر کے احکام کے برخلاف نہ تھی۔اس لئے مسیح اور قیصر کے احکام کا کبھی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا تھا۔لیکن اگر ہو جاتا تو وہ بھی یہی حکم دیتے جو دوسرے نبی دیتے آئے۔اور جو رسول کریم نے دیا۔گورنمنٹ کا حکم دنیاوی امور میں ہے لیکن مذہب میں نہیں۔اور اگر گور نمنٹ مذہب میں