خطبات محمود (جلد 11) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ سال 1927ء رہے گی۔اور یہی حضرت مسیح موعود کی تعلیم ہے اور ہم اسی تعلیم پر چلتے ہیں۔حضرت مسیح موعود ہم میں موجود نہیں۔وہ فوت ہو چکے اور اب آپ کی تعلیم کو بدلنے والا کوئی نہیں۔کتنا ہی نازک اور برا موقع آجائے اگر کوئی گورنمنٹ کے رعب اور وقار کو قائم رکھ سکتا ہے تو وہ احمد کی جماعت ہے۔لالچ کی تو کوئی وجہ نہیں اور ڈرا سے پیدا نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی وجہ سے وہ وفاداری کرتی ہے۔اور وفاداری کرنے کی وجہ سے لوگوں کی طرف سے جو جو سختیاں اس پر ہو ئیں۔وہ کسی اور پر نہیں ہوئیں۔ان سختیوں کے باوجود وہ گورنمنٹ کی وفادار ہے۔آج کل گورنمنٹ کی مخالفت آسان ہے۔اور اس سے وفاداری کرنا مشکل۔مسٹر گاندھی کو کبھی پھر نہیں پڑے۔نہ کبھی مالوی جی کو پتھر پڑے۔لیکن ہمیں گورنمنٹ کی وجہ سے پتھر پڑے۔ہمارے لئے کنوؤں سے پانی لینا بند کیا گیا۔مقدمات میں گھسیٹا گیا۔ہم سے مقاطعہ کیا گیا۔مگر پھر بھی ہم نے اپنے اصل کو نہیں چھوڑا۔ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر شخص جو کسی کو امام مانتا ہے وہ اسے گورنمنٹ پر ترجیح دیتا ہے۔اور اس وجہ سے ہر اک سچا احمدی خلیفتہ المسیح کو سب دنیوی حکام پر ترجیح دے گا۔مگر جب کہ احمدیت کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ ہر اک گورنمنٹ سے وفاداری کرو۔تو یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کسی وقت کوئی خلیفہ کسی گورنمنٹ کے خلاف فساد کرنے کا حکم دے گا۔یا اس کے احکام کے توڑنے کی تعلیم دے گا۔اگر کہو ممکن تو ہے کہ کسی وقت گورنمنٹ کے احکام اور خلیفہ کے احکام میں اختلاف ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل ممکن ہے۔لیکن باوجود اس کے فساد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اسلامی تعلیم نے ان سب امور کا علاج پہلے سے تجویز کیا ہوا ہے۔ہم فرض کر لیتے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ کسی وقت کوئی ایسا حکم دے جو کسی گورنمنٹ کے حکم کے خلاف ہو۔مگر باوجود اس احتمال کے فساد کا کوئی خطرہ نہیں۔کیونکہ اس صورت میں جماعت کے لوگوں کا فرض ہو گا۔کہ وہ خلیفہ وقت کو توجہ ولا ئیں کہ ان کا حکم گورنمنٹ کے خلاف ہے۔آگے دو صورتیں ہوں گی۔یا ان لوگوں کا خیال غلط ہو گا۔تب تو یہ جھگڑا آپ ہی طے ہو جائے گا۔یا پھر ان کا خیال درست ہو گا اس صورت میں خلیفہ وقت کا فرض ہو گا کہ وہ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرے۔اگر وہ مناسب سمجھے تو اپنے حکم کو بدل دے۔اور اگر یہ مناسب نہ سمجھے تو گور نمنٹ کو توجہ دلائے کہ اس کا حکم احمدی جماعت کے مفاد کے خلاف ہے۔یا ان کی مذہبی تعلیم کے خلاف ہے۔اس لئے وہ اس حکم کو بدل دے۔اگر